برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان مذاکرات میں شرکت کے لیے دونوں ممالک کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا ہے کہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے جو مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنے کی قرارداد جمع
اس موقع پر اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دو روزہ تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
مذاکراتی عمل میں شریک افراد کو ریڈ زون میں واقع ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام دیا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود کو بڑھا کر زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک کا علاقہ اس میں شامل کر لیا ہے۔
ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور ڈپلومیٹک انکلیو واقع ہیں، جہاں مختلف ممالک کے سفارت خانے موجود ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کی سکیورٹی کا کنٹرول فوج کے پاس ہوگا، جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ وہاں موجود وفاقی وزارتوں کے ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران گھروں سے کام کریں۔
جڑواں شہروں میں تعطیل کے باعث اسکول، کالجز اور تعلیمی ادارے بند ہیں، جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں بھی مقدمات کی سماعت نہیں ہوگی۔
اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت عارضی طور پر بند کیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئرپورٹ سے ہوٹل کی جانب روانہ ہوں گے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج راولپنڈی میں ہونے والا احتجاجی جلسہ منسوخ کر دیا ہے، اور پارٹی کے مطابق نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔
یاد رہے کہ اس مذاکراتی عمل کی کوریج کے لیے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں، اور مختلف ممالک سے پچاس سے زائد صحافیوں نے ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دی ہیں، جبکہ کوریج کے انتظامات کنونشن سینٹر یا پاک چائنہ سینٹر میں کیے جانے کا امکان ہے۔