مانسہرہ میں مبینہ ٹمبر مافیا کی سرگرمیاں، جنگلات کی کٹائی پر تشویش
مانسہرہ کے سرسبز پہاڑی علاقوں میں مبینہ طور پر ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں کے باعث جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے، جس پر مقامی حلقوں اور ماہرین ماحولیات نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً ساٹھ ہزار روپے میں تیس چیڑھ کے درخت فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مبینہ طور پر اس غیر قانونی سرگرمی کو بعض بااثر شخصیات اور متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر کارروائی کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔
چند ماہ قبل لکڑی کی اسمگلنگ کے معاملے پر ایک شہری کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ ریشم کو بلاک کر دیا تھا اور مقدمہ درج کروایا گیا تھا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود صورتحال میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حالیہ واقعے میں بھی درختوں کی کٹائی کی شکایت متعلقہ اداروں کو دی گئی، مگر مبینہ طور پر معمولی جرمانہ عائد کر کے معاملہ نمٹا دیا گیا، جبکہ بڑی مقدار میں لکڑی پہلے ہی منتقل کی جا چکی تھی۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلات کی اس غیر قانونی کٹائی سے ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں لینڈ سلائیڈنگ، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں اضافہ شامل ہے۔ مقامی آبادی نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ قدرتی وسائل کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔