عید کے قریب آتے ہی ملک بھر کے بازاروں اور شاپنگ سینٹرز میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے، اور خریداری کے اس ہجوم میں بچوں کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے چند لمحوں کے لیے والدین سے بچھڑ جاتے ہیں، جس کے بعد بازاروں میں انتظامیہ کی جانب سے بچوں کے گم ہونے یا ملنے کے اعلانات سنائی دینے لگتے ہیں۔
ماہرینِ اطفال کے مطابق اگر والدین بچوں کو پہلے سے چند بنیادی اصول سکھا دیں تو ایسی صورتحال میں گھبراہٹ کم ہو سکتی ہے اور بچہ جلد اور محفوظ طریقے سے اپنے والدین تک پہنچ سکتا ہے۔
بچوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دینی چاہیے کہ اگر بھیڑ میں والدین کا ہاتھ چھوٹ جائے تو وہ گھبرا کر ادھر اُدھر نہ بھاگیں بلکہ اسی جگہ رک جائیں جہاں وہ آخری بار اپنے والدین کے ساتھ تھے۔ ایک ہی جگہ کھڑے رہنے سے والدین کے لیے بچے کو تلاش کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
بچوں کو یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ وہ ہر اجنبی پر بھروسہ نہ کریں۔ مدد حاصل کرنے کے لیے صرف وردی والے افراد جیسے پولیس اہلکار یا سیکیورٹی گارڈ سے رجوع کریں، یا ایسی خواتین سے مدد مانگیں جن کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ کی انتظامیہ کے ڈیسک یا اناؤنسمنٹ بوتھ پر جا کر اپنے والدین کا نام پکارنے کو کہیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو اپنی بنیادی معلومات یاد ہونی چاہئیں، جن میں ان کا پورا نام، والد یا والدہ کا نام، گھر والوں کا فون نمبر اور پتہ شامل ہے۔ عید کی خریداری کے لیے بازار جانے سے پہلے والدین کو چاہیے کہ یہ معلومات بچوں سے دہروا لیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی کو بتا سکیں۔
ہر بچے کو کم از کم اپنے والد یا والدہ میں سے کسی ایک کا موبائل نمبر زبانی یاد ہونا چاہیے۔ نمبر یاد کرانے کے لیے اسے کسی نظم یا گانے کی طرح بار بار دہرایا جا سکتا ہے تاکہ وہ بچے کے ذہن میں اچھی طرح محفوظ ہو جائے۔
اگر کسی اجنبی کی جانب سے بچے کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی جائے یا بچہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو اسے چپ رہنے کے بجائے بلند آواز میں شور مچانے اور مدد کے لیے پکارنے کی تربیت دینی چاہیے۔ “میں آپ کو نہیں جانتا” یا “بچاؤ” جیسے الفاظ بلند آواز میں کہنا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ عید کی خریداری کے دوران چھوٹے بچوں کی کلائی پر والدین اپنا موبائل نمبر لکھ دیں یا بچے کی جیب میں اپنی کانٹیکٹ معلومات کی ایک پرچی رکھ دیں۔ اگر بچہ راستہ بھول جائے تو وہ کسی قابلِ اعتماد شخص کو یہ نمبر دکھا سکتا ہے۔
اسی طرح عید کی شاپنگ کے لیے جاتے وقت بچوں کو شوخ رنگ کے کپڑے پہنائیں تاکہ وہ دور سے بھی آسانی سے نظر آ سکیں، اور ہجوم میں جانے سے پہلے ان کی ایک تازہ تصویر موبائل فون میں محفوظ کر لیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انتظامیہ کو دکھائی جا سکے۔
عید کی خوشیوں کے موقع پر بازاروں میں بڑھتے ہوئے رش کے باعث احتیاط بے حد ضروری ہے۔ اگر والدین پہلے سے بچوں کو یہ آسان اصول سکھا دیں تو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان کی حفاظت کو زیادہ بہتر انداز میں یقینی بنایا جا سکتا ہے۔