Gas Leakage Web ad 1

جنوبی ایشیا میں خلا کی عسکری دوڑ: پاکستانکی سلامتی کے تقاضے

جنوبی ایشیا میں خلا کی عسکری دوڑ: پاکستانکی سلامتی کے تقاضے

0

جنوبی ایشیا میں خلا کی عسکری دوڑ: پاکستانکی سلامتی کے تقاضے
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد یاسین

Gas Leakage Web ad 2

خلا میں لاکھوں سیٹلائٹس کی موجودگی نے عالمی سلامتی کی حرکیات کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج خلا کا نظام فوجی منصوبہ بندی کے لئے بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ سیٹلائٹس کمانڈ اینڈ کنٹرول، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں خلا کی صورتحال پاکستان کے لئے خاص اہمیت اختیار کر چکی ہے کیونکہ بھارت سیٹلائٹس کا ایک بڑا جال چلا رہا ہے۔ بظاہر یہ سیٹلائٹس معاشی ترقی اور سائنسی مقاصد کے لئے ہیں لیکن انہیں فوجی کارروائیوں میں جارحانہ انداز میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق بھارت کے پاس خلا میں ایک سو سے زیادہ ایسے سیٹلائٹس موجود ہیں جو فوجی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
خلا کی ٹیکنالوجی میں یہ پیش رفت پاکستان کے لئے باعثِ تشویش ہے کیونکہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ بھارت اینٹی سیٹلائٹ تجربہ (ASAT) کر چکا ہے جس کے ذریعے وہ خلا میں موجود سیٹلائٹس کو براہِ راست نشانہ بنا کر انہیں غیر مو¿ثر بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ اس طرح کی صلاحیت جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے خصوصاً پاکستان کےلئے اس کے اثرات اہم ہیں۔
بھارت خلا میں اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کے لیے کئی ملکوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ سیٹلائٹس سے متعلق خطرات کی معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کی جاتی ہے اور خلا میں پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح فرانس کے ساتھ خلائی نگرانی کے شعبے میں تعاون جاری ہے۔ ان شراکت داریوں کی بدولت بھارت خلا میں اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ اسرو (ISRO) اب خلا میں فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر کام کر رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا میں بھارت کا خلائی پروگرام سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سیٹلائٹس، جیسے RISAT اور GSAT، بیک وقت شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح خلا کی عسکریت کاری اور اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں نے خطے میں تزویراتی توازن کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان اس میدان میں ابھی بھارت سے پیچھے ہے۔ پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو (SUPARCO) مالی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کے باعث خلائی ٹیکنالوجی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکا۔ اس وقت پاکستان کے پاس اپنی سرزمین سے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کی مکمل صلاحیت موجود نہیں اس لئے اسے اس مقصد کے لئے چین کے تعاون پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
فی الحال پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹPRSS-1 زمین کے مشاہدے کے لئے استعمال ہو رہا ہے جو انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ قدرتی آفات کے دوران امدادی اور انتظامی سرگرمیوں میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح PAKSAT-1R محفوظ مواصلاتی خدمات فراہم کرتا ہے اور نشریاتی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان ان ممکنہ خطرات سے آگاہ ہے اور اسی وجہ سے اپنے خلائی پروگرام کو دفاعی تقاضوں کے مطابق جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے تعاون سے مزید سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے منصوبے زیر غور ہیں جبکہ پاکستانی خلا نوردوں کی تربیت بھی چین میں جاری ہے۔ درمیانی مدت میں پاکستان کا مقصد خلائی میدان میں موجود عدم توازن کو کم کرنا اور تزویراتی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔
اس وقت پاکستان سائبر اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان 2040 تک کئی سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اس سلسلے میں چین کے تعاون پر انحصار برقرار رہنے کا امکان ہے۔ چین پاکستان کو خلائی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں بھی چین کا تعاون دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اپریل اور مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایک جامع ڈیجیٹل دفاعی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اس حکمت عملی کے تحت تکنیکی نگرانی، پالیسی کے نفاذ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطے کو یکجا کیا گیا جس کے نتیجے میں معاندانہ بیانیوں کو روکنے، معلوماتی خودمختاری کو محفوظ رکھنے اور 202 مخالف ڈیجیٹل ذرائع کو بند کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ اوور دی ٹاپ (OTT) پلیٹ فارمز کو ہدایت دی گئی کہ وہ بھارت سے آنے والا گمراہ کن مواد ہٹا دیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی اور خلائی مسابقت کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ پاکستان کو بھارت کی خلائی عسکریت کاری سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کیسے کرنا چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان کو اپنی جوہری بازدارانہ صلاحیت کو مضبوط رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں جیسے غیر متناسب جوابی اقدامات کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
چین کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے سیٹلائٹس کے اجرا اور اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت کے حصول کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ طویل مدت میں پاکستان کےلئے اپنی سرزمین سے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کی صلاحیت حاصل کرنا بھی ناگزیر ہوگا۔ اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
آخر میں پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جدید ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اور خلائی تحقیق کے مشترکہ منصوبے قائم کئے جا سکیں۔
(بریگیڈیئر محمد یاسین (ریٹائرڈ) ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کے چارٹرڈ انجینئر ہیں اور اسلام آباد میں قائم سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز مشیرِ اعزازی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔)

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.