آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے کاروباری طبقے کو اہم ریلیف دیتے ہوئے سپر ٹیکس میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو سہولت دینا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتی سرگرمیوں میں تیزی لانا ہے۔
بجٹ میں ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 15264 ارب روپےمقرر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدنی رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سلیب میں پہلے 1 فیصد سے لے کر 7.5 فیصد تک مختلف شرحوں سے سپر ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی والے بڑے کاروباروں پر بھی سپر ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جسے 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا اور معیشت کو مجموعی طور پر فائدہ پہنچے گا۔ تاہم بینکنگ سیکٹر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد ساز اداروں پر عائد موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔