اسلام آباد: افغانستان، ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی و عالمی صورتحال پر حکومتی ان کیمرا بریفنگ میں شرکت کے حوالے سے اپوزیشن صفوں میں تقسیم دیکھنے میں آئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کر لی ہے جبکہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی سے عدم ملاقات کو جواز بنا کر بریفنگ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
ایمرجنسی میں کمانڈ کا مسئلہ حل، آگ، زلزلہ، سیلابی صورتحال میں واحد اتھارٹی میئر کراچی ہونگے
وزیراعظم ہاؤس کی ان کیمرہ بریفنگ میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مولانا عطا الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ پر مشتمل وفد شرکت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے آمادگی سے قبل مشاورت کے لیے اپوزیشن سے تین مرتبہ رابطہ کیا۔
اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے اندر نشست پر جا کر بیرسٹر گوہر کو بریفنگ میں جانے کا مشورہ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے شام کے وقت محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کو ٹیلی فون کرکے بھی بریفنگ میں شرکت کی تجویز دی۔
مولانا نے مشورہ دیا کہ پہلے بریفنگ میں جایا جائے اور وہاں متفقہ طور پر پارلیمان کو بھی ان کیمرہ بریفنگ دینے کی شرط رکھی جائے لیکن محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے سامنے بے بس نکلے۔ ان کیمرا بریفنگ میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کی عدم شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی بریفنگ میں شرکت نہ کرنے سے متعلق اعلامیہ جاری کر چکی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن بریفنگ میں شرکت کرے، وزیراعظم کی بات سنے اور اپنی بات بھی رکھے جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص ارکان کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سب کو سیکیورٹی بریفنگ دی جائے۔