وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ نائن الیون کے واقعے میں ملوث عناصر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحے میں کوئی افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا، تاہم اس واقعے کے بعد پاکستان نے کرائے کی جنگیں لڑیں اور پھر استعمال کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی پاکستان سے بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل
خواجہ آصف نے بتایا کہ ایک دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزہ کی پابندی نہیں تھی اور اجازت نامے پر سفر کیا جاتا تھا، وہ خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں میں فریق بنے، روسی افغانستان کی دعوت پر آئے تھے اور اس کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہوا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے اور اپنی تاریخ تبدیل کرنے میں ناکام رہے، امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ نائن الیون افغانستان نے نہیں کرایا مگر اس کے بعد ہم کرائے کی جنگ لڑتے رہے، اور ایک شخص نے امریکہ کی خوشنودی کے لیے ملک کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں جہاد نہیں لڑا بلکہ یہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی، جس کے بعد ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔
وزیر دفاع نے ایوان میں اپنے والد کی کی ہوئی غلطیوں کی معافی بھی مانگی اور کہا کہ قائد اعظم نے اتحاد، تنظیم اور ایمان کی بات کی، لیکن ہم نے ترتیب بدل دی اور غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر سڑکیں رکھ دی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم اپنے ہیروز کو اپنا ہیرو کیوں نہیں مانتے۔



