مولانا فضل الرحمان: غزہ پیس بورڈ میں جانا صرف ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنے کے مترادف
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایوان منتخب ایوان ہے، مگر حکومت نے کبھی بھی اسے اعتماد میں نہیں لیا، اور یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایوان کو بتائے کہ کون سے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کیوں اہم ہے؟
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی رہی ہے، بانی پاکستان کے اسرائیل کے قیام کے خلاف تاریخی اقدامات کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی موجودگی میں متوازی حیثیت رکھتی ہے، اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے باوجود پالیسی کو درست رکھنا ضروری تھا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ طالبان کے زیر اثر علاقوں میں سرکاری افسران بھی بھتہ دیتے ہیں، اور بجٹ میں اس کا حصہ رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے نظام کو جبر پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی سیاہ دن دیکھے گئے ہیں اور 8 فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں ترمیم کے تحت دیے گئے استثنیٰ کو واپس لینے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔