پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے فنگر پرنٹس کسی کو فراہم کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔

اعلامیے کے مطابق جعلساز مختلف طریقوں سے شہریوں کو جھانسہ دے کر ان کے انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا ہدف خاص طور پر سادہ لوح افراد اور خواتین ہیں، جنہیں وہ فری سم کارڈ یا امدادی اسکیموں کا لالچ دے کر اپنے فنگر پرنٹس دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان جعلی طریقوں سے حاصل کی گئی سم کارڈز بعد میں سنگین جرائم میں استعمال کی جاتی ہیں۔
5 سال بعد قومی ائیرلائن کی اسلام آباد سے مانچسٹر کیلئے پہلی پرواز نے اڑان بھرلی
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ اپنی سم کسی اور کو دینا قانونی جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم سے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں قانونی کارروائی آپ کے خلاف ہو سکتی ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سموں کی تصدیق کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر 668 پر ایس ایم ایس کریں، اور اگر کوئی نامعلوم سم سامنے آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کرائیں۔
مزید معلومات یا شکایات کے لیے شہری پی ٹی اے کے ٹول فری نمبر 0800-55055 پر یا ویب سائٹ pta.gov.pk کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔



