ڈی جی آئی ایس پی آر اور پاک فضائیہ کے سینئر افسر کی جوائنٹ پریس کانفرنس،بھارتی طیاروں کی تباہی کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر،دیکھیں
ڈی جی آئی ایس پی آر اور پاک فضائیہ کے سینئر افسر نے ایک اہم جوائنٹ پریس کانفرنس میں بھارت کے جھوٹے دعووں کا پول کھول دیا، اور عالمی میڈیا کے سامنے بھارتی طیاروں کی تباہی کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔ یہ کانفرنس 6 اور 7 مئی 2025 کی رات پاک-بھارت فضائی جھڑپ کے پس منظر میں منعقد کی گئی، جو دونوں ممالک کی تاریخ کی ایک طویل ترین فضائی جنگ قرار دی جا رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس فضائی لڑائی کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں 3 جدید رافیل، 1 مگ 29 اور ایک SU-30 شامل ہے۔
بھارت نے حسب روایت اس واقعے کا انکار کیا اور سرکاری سطح پر طیارے گرنے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ تاہم، کچھ بھارتی میڈیا اداروں جیسےانڈیا ٹوڈے،انڈین ایکسپریس، اوردی ہندونے ابتدائی طور پر طیاروں کے گرنے کی خبریں شائع کیں جنہیں بعد ازاں مودی حکومت کی جانب سے دبا دیا گیا۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی طیاروں کے مخصوص سیریل نمبرز، تباہی کی جگہوں، اور ملبے کی تصاویر و فوٹیجز پیش کیں۔ ایک ویڈیو میں واضح طور پر تباہ شدہ رافیل طیارے کی ٹیل دیکھی جا سکتی ہے جس پر بھارتی "17 گولڈن ایرو اسکواڈرن” کا نشان موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا:
ہم 21ویں صدی میں رہ رہے ہیں نہ کہ 18ویں صدی میں ہر چیز کا ایک نشان ہوتا ہے، جو سچ کو سامنے لاتا ہے۔
بی بی سی اور بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی آزادانہ طور پر جھڑپ کے بعد مقبوضہ کشمیر اور دیگر علاقوں سے طیارے گرنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ بی بی سی کے نمائندے نے پامپور اور رام بن میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی رپورٹ دی، جو مبینہ طور پر طیاروں کے گرنے سے منسلک ہیں۔
بھارتی صحافی پراوین سواہنےاورکرن تھاپرنے بھی ان شواہد کی حمایت کی، تاہم انہیں "دی وائر” جیسے میڈیا پلیٹ فارمز سے سچ بولنے پر بلاک کر دیا گیا۔پاک فضائیہ نے یہ کارروائیاں مکمل دفاعی موقف اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے تحت سر انجام دیں۔