Gas Leakage Web ad 1

شکار پوری اچار: گھریلو خواتین کی محنت و لیاقت کا ثمر

0

شکار پوری اچار: گھریلو خواتین کی محنت و لیاقت کا ثمر

Gas Leakage Web ad 2

یوں تو صوبۂ سندھ کا تاریخی شہر شکارپور متعدد حوالوں سے شہرت رکھتا ہے، مگر یہاں تیار ہونے والا چٹ پٹا، منفرد ذائقے اور خوشبو سے بھرپور اچار جسے ’’شکار پوری اچار‘‘ کہا جاتا ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔

مختلف مسالوں سے تیار ہونے والا یہ اچار اپنے اندر ایک پوری ثقافت اور تاریخی ورثہ سموئے ہوئے ہے، تاہم اس ذائقے دار سفر کی ابتدا کسی بڑے کارخانے سے نہیں ہوئی بلکہ شکارپور کی ایک عام گھریلو خاتون نے اس منفرد اچار کی تیاری کا آغاز کیا تھا۔

یہ تقریباً سات سے آٹھ دہائیاں قبل کا واقعہ ہے۔ اس دور میں شکارپور کی بعض خواتین گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ روایتی طریقوں سے اچار بنانے میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ یہ خواتین گھریلو استعمال کے لیے موسمی سبزیوں اور پھلوں کا روایتی انداز میں اچار تیار کرتی تھیں جو ذائقے میں نہایت لذیذ ہوتا تھا۔

انہی خواتین میں سے ایک خاتون کے ہاتھ سے بنے اچار کا ذائقہ اس قدر منفرد اور لاجواب تھا کہ اس کی شہرت گھر اور خاندان سے نکل کر پورے علاقے میں پھیل گئی۔ بعد ازاں اس خاتون نے بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے اس کی تجارتی سطح پر تیاری شروع کر دی۔

جب اس اچار کی فروخت میں اضافہ ہوا تو خاتون کے شوہر نے گھر ہی میں ایک چھوٹی دکان قائم کر لی اور وہاں گھر میں تیار کیا گیا اچار فروخت ہونے لگا۔ کچھ ہی عرصے میں اس اچار کی شہرت اتنی پھیل گئی کہ دوسرے شہروں سے بھی لوگ خریداری کے لیے آنے لگے۔ اس رجحان نے شکارپور کے دیگر افراد کو بھی اپنے گھریلو اچار کی فروخت کی طرف راغب کیا۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے کئی خواتین نے اپنے گھروں میں تجارتی پیمانے پر اچار بنانا شروع کر دیا، اور شہر میں جگہ جگہ اچار کی دکانیں قائم ہونے لگیں جو بعد میں کارخانوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اس طرح ایک چھوٹا سا گھریلو کاروبار ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔ آج شکارپور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے چٹ پٹے اور لذیذ اچار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

شکار پوری اچار اپنی خوشبو، مصالحہ جات کے متوازن استعمال اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے کی صلاحیت کے باعث ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ آم، گاجر، لیموں، لہسن، مرچ اور مختلف سبزیوں پر مشتمل اچار اس کی معروف اقسام میں شمار ہوتا ہے، اور ہر شیشی میں صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافت، محنت اور خلوص کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

بہرکیف، شکار پوری اچار کی اس عالمی شہرت کا سہرا مقامی خواتین کے سر جاتا ہے۔ انہی خواتین نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف مختلف اقسام کے منفرد ذائقے تخلیق کیے بلکہ ان کے معیار کو بھی برقرار رکھا۔

انہوں نے اچار کی تیاری میں موسم، درجۂ حرارت، مسالوں کے تناسب، تیل کی مقدار اور دھوپ جیسے عوامل کا خاص خیال رکھا۔ ان کی مہارت کا یہ عالم ہے کہ آج بھی شکار پوری اچار اپنی مخصوص خوشبو، ذائقے اور دیرپا تازگی کے باعث پہچانا جاتا ہے۔

شکار پوری اچار کی خاص اقسام میں آم کا اچار، مرچ کا اچار، لیموں اور لہسن کا اچار، مکس اچار اور پھلکاری اچار شامل ہیں۔ آم کا اچار خاص طور پر گرمیوں کی مقبول سوغات سمجھا جاتا ہے، جبکہ مکس اچار میں آم، گاجر، مرچ، لیموں اور دیگر سبزیاں شامل کی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ شکار پوری اچار صرف ایک خوراک نہیں بلکہ محنت، لگن اور ثقافتی ورثے کی ایک مکمل کہانی ہے۔ شکارپور کی خواتین نے ثابت کیا کہ چھوٹے گھریلو کام بھی خلوص اور مہارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر کامیابی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ آج یہ صنعت ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.