Gas Leakage Web ad 1

شدید گرمی، لو کے تھپیڑے اور احتیاطی تدابیر

0

اِن دنوں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے، متعدد مقامات پر درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں لو کے خطرناک تھپیڑوں کے سبب کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

یاد رہے کہ موسمِ گرما میں ہیٹ اسٹروک یا لو لگنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس سخت موسم سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

اس ضمن میں مزید تفصیل میں جانے سے قبل یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہو جائے تو اسے فوری طور پر لٹا دینا چاہیے۔ اس کے پاؤں کسی اونچی جگہ یا چیز پر رکھ دیے جائیں۔ متاثرہ شخص کے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی جائیں یا ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے۔

مریض کو فوراً پنکھے کے قریب کر دیا جائے یا کسی چیز سے مسلسل ہوا دی جائے، نیز فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ذیل میں ہیٹ اسٹروک اور گرمی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہیں۔

احتیاطی تدابیر

شدید گرمی کے مضر اثرات اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی ضرور استعمال کریں، کیونکہ موسمِ گرما میں پسینہ آنے کے باعث جسم سے نمکیات کا اخراج ہوتا ہے اور زیادہ پانی پینے سے جسم میں نمکیات کا توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

ایسی غذاؤں اور مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں جو جسم کو ٹھنڈا رکھیں۔ اس ضمن میں کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، اسکنجبین، فالسے، املی اور آلو بخارے کا شربت اور دودھ یا دہی کی لسی مفید ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ گرم اشیاء، باربی کیو، فاسٹ فوڈز، کولڈ ڈرنکس، چائے اور کافی کا استعمال کم سے کم کر دیں، اور الکحل، پان اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیں۔

ڈھیلے ڈھالے، ہوا دار اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات پہنیں تاکہ پسینہ جلد خشک ہو سکے۔ دن کے وقت بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، اور اگر باہر نکلنا ناگزیر ہو تو سر کو گیلے کپڑے سے ڈھانپ لیں۔ دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں۔ اس کے علاوہ پانی کی بوتل ہمیشہ ساتھ رکھیں اور ہر 20 سے 30 منٹ بعد پانی پیتے رہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دھوپ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، لیکن سخت گرمی میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعائیں جلد کو طویل المدتی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ لہٰذا گھر سے نکلنے سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے جسم کے کھلے حصوں پر سن بلاک لگانا ضروری ہے۔

طبی ماہرین شدید گرمی کے موسم میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ اس سے فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

بازاری کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔ طبی ماہرین کے مطابق موسمِ گرما میں کیفین اور تیل سے بھرپور اشیاء، تلی ہوئی اور پیک شدہ غذاؤں کا استعمال کم جبکہ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔ خاص طور پر سلاد اور ایسے پھل اور سبزیاں استعمال کرنی چاہئیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو۔

جیسے کھیرے، تربوز، آم، فالسے، کینو، لیچی، خربوزہ اور گاجر وغیرہ کا استعمال فائدہ مند ہے۔ موسمِ گرما میں گھر کے تیار کردہ، تازہ اور صاف ستھرے کھانوں کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ اس موسم میں معمولی سی لاپروائی بھی مختلف اقسام کے انفیکشنز اور بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے کھانے پینے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.