آخر ائیرپورٹس بہت زیادہ ٹھنڈے کیوں ہوتے ہیں؟
ائیرپورٹ ایک خوبصورت اور نہایت روشن مقام ہوتا ہے جہاں کشادہ ہالز اور بلند چھتیں اس کی منفرد پہچان سمجھی جاتی ہیں۔
اکثر ائیرپورٹس کا ڈیزائن بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور ان کے اندر مسافروں کی سہولت کے لیے متعدد جدید سہولیات موجود ہوتی ہیں۔
تاہم ایک بات جو تقریباً ہر ائیرپورٹ اور طیارے میں مشترک طور پر محسوس کی جاتی ہے وہ وہاں کی ٹھنڈک ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیرکی تہران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات، دیگر ایرانی حکام کی بھی شرکت
اگر آپ نے کبھی ائیرپورٹ پر پرواز کے انتظار کے دوران زیادہ ٹھنڈک محسوس کی ہو تو یہ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔
ائیرپورٹس کا درجہ حرارت نسبتاً کم رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مسافر وہاں آتے اور جاتے ہیں۔ جب اتنے زیادہ لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو ان کے جسموں سے حرارت خارج ہوتی ہے، جس سے ماحول گرم ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے ہجوم اور مشینری کے درست کام کو یقینی بنانے کے لیے ائیرپورٹس میں درجہ حرارت کم رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح بیشتر ائیرپورٹس میں جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ فضا کو صاف رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں، تاکہ اندرونی ماحول صحت مند رہے اور مسافروں کو بہتر ہوا میسر آ سکے۔
اگر آپ کو طیارے میں داخل ہوتے وقت اضافی ٹھنڈک محسوس ہو تو اس کی بھی ایک خاص وجہ ہوتی ہے۔ طیارے تک لے جانے والے برجیز کو تکنیکی اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹھنڈا رکھا جاتا ہے، جبکہ کھڑے طیارے اکثر زمین پر موجود ایئر کنڈیشننگ یونٹس سے منسلک ہوتے ہیں، جن کی ٹھنڈی ہوا بعض اوقات اردگرد کے حصوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
ان تمام عوامل کے باوجود بعض اوقات ائیرپورٹس گرم بھی محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر جب وہاں بہت زیادہ رش ہو یا عمارتوں میں شیشے کی چھتیں موجود ہوں، جن کے ذریعے سورج کی روشنی اندر آ کر حرارت پیدا کرتی ہے۔