بغیر سرجری یا ادویات کے یہ شخص اپنے وزن میں 158 کلوگرام کمی کیسے لایا؟
ایک شخص کا وزن جب 254 کلوگرام تک پہنچ گیا تو اس کی شخصیت اس قدر تبدیل ہوگئی کہ وہ اپنی تصاویر میں خود کو پہچاننے سے بھی قاصر ہونے لگا۔
درحقیقت اسے یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ اگر اس نے جسمانی وزن کم نہ کیا تو اس کی موت بھی ہوسکتی ہے۔ یہی خوف امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے ہنری گوانزلو کو اپنی زندگی بدلنے پر مجبور کر گیا۔
ہنری گوانزلو اپنے جسمانی وزن میں 50 فیصد سے زیادہ کمی لانے میں کامیاب رہے اور انہوں نے یہ تبدیلی کسی سرجری یا ادویات کے بغیر حاصل کی۔
سرکاری ملازمین کو کلاسیفائیڈ دستاویزات پبلک اے آئی ٹولز پر اپ لوڈ کرنے سے روک دیا گیا
34 سالہ ہنری گوانزلو کی کمر ایک وقت میں 62 انچ تک پہنچ گئی تھی اور وہ روزانہ ہزاروں روپے فاسٹ فوڈ پر خرچ کردیا کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں لگنے لگا تھا کہ وہ جوانی میں ہی مر جائیں گے اور 30 سال کی عمر تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے، جبکہ اس کی وجہ ان کا اپنا طرز زندگی ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ اتنا کھانا آرڈر کرتے تھے جو 4 افراد کے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہوتا تھا اور زیادہ تر فاسٹ فوڈ ہی استعمال کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسمانی وزن بڑھنے کے باعث انہیں جوتے پہننے میں مشکلات پیش آنے لگیں، کپڑے ملنا مشکل ہوگیا جبکہ کچھ دیر کے لیے کھڑا ہونا بھی دشوار ہوجاتا تھا۔
254 کلوگرام وزن تک پہنچنے کے بعد وہ ہائی بلڈ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، جگر پر چربی چڑھنے، ہائی کولیسٹرول اور سینے میں تکلیف جیسے مسائل کا بھی شکار ہوگئے تھے۔
ان کے بقول انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ مزید بھاری ہوتے جارہے ہیں، جبکہ جسمانی سرگرمی بہت کم تھی۔ وہ ہر وقت تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا شکار رہتے تھے۔
اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے پہلے گیسٹرک بائی پاس سرجری کرانے کے بارے میں سوچا، تاہم بعد میں قدرتی طریقے سے جسمانی وزن کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
نومبر 2019 میں انہوں نے اس سفر کا آغاز کیا اور ایک ذاتی ٹرینر تلاش کیا، جس کے تیار کردہ پروگرام پر عمل کرتے ہوئے وہ 6 برسوں میں 158 کلوگرام سے زائد وزن کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اب بھی اسی پروگرام پر عمل کررہے ہیں۔ ان کی کمر کا سائز 60 سے کم ہوکر 34 انچ ہوگیا ہے، جبکہ جوتوں کا سائز بھی 12 سے کم ہوکر 10 ہوگیا ہے۔
اب وہ زیادہ تر گھر کا سادہ کھانا ہی استعمال کرتے ہیں، جس میں چکن، مچھلی، چاول اور سبزیاں شامل ہیں۔ وہ اپنی غذا میں پروٹین کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور تقریباً ایک جیسی غذا گزشتہ 4 برس سے لے رہے ہیں۔
غذا کے ساتھ ساتھ وہ ہفتے میں 4 دن وزن اٹھانے والی ورزش کرتے ہیں اور روزانہ 4 سے 6 میل چہل قدمی بھی کرتے ہیں۔
ہنری گوانزلو کے مطابق اب ان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے اور کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی چلنے پھرنے کے قابل ہے تو وہ سرجری یا ادویات کے بغیر بھی اپنے جسمانی وزن میں کمی لاسکتا ہے۔