مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے سفیان مقیم نے انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ ایوارڈ اور اس کے ساتھ ملنے والی پوری رقم اپنے محلے کی ایک باہمت خاتون کے نام کرتے ہیں، جن کے شوہر بیرونِ ملک وفات پا چکے ہیں اور وہ اپنے پانچ بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اس خاتون کے لیے وہی گھر خرید سکیں جس میں وہ اس وقت رہ رہی ہیں، تاکہ ان پر سے کرائے کا بوجھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ خاتون نہایت باوقار اور خوددار ہیں اور کبھی کسی کے سامنے اپنی مشکلات ظاہر نہیں کرتیں۔ انہیں اس خاتون کی صورتحال کا علم اپنے گھر والوں کے ذریعے ہوا، کیونکہ وہ ایک دینی مدرسے میں بچیوں کو تعلیم دیتی ہیں جہاں ان کے محلے کی بچیاں بھی زیرِ تعلیم ہیں۔ اسی دن انہوں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ وہ ان یتیم بچوں کے لیے ضرور کچھ کریں گے اور ان شاء اللہ بہت جلد ان کے لیے گھر خرید لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ محمد رضوان بھائی، جو ان کے سینئر اور استاد ہیں، ہمیشہ انہیں نصیحت کرتے رہے ہیں کہ اگر زندگی میں حقیقی کامیابی حاصل کرنی ہو تو اپنے اردگرد موجود بےبس لوگوں کی مدد کرنا ضروری ہے، اور حقیقت میں یہی اصل کامیابی ہے۔