بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب کہیں فراڈ کا شکار نہ ہو جائے! طلبہ و طالبات ایجوکیشن ایجنٹس کی 5 خطرناک نشانیاں لازمی مدنظر رکھیں۔

مائیگرنٹ ریسورس سینٹر پاکستان کی جانب سے ایجوکیشن کنسلٹنٹس کے فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ و طالبات کو ایجوکیشن ایجنٹس اور کنسلٹنٹس کے ممکنہ فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے مائیگرنٹ ریسورس سینٹر نے اہم رہنما اصول جاری کرتے ہوئے پانچ بڑی نشانیوں (وارننگ سائنز) سے آگاہ کیا ہے۔
ایم آر سی پی کے آگاہی پیغام میں طلبہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے حصول کے لیے کسی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں تاکہ مستقبل میں کسی خطرے سے دوچار نہ ہوں۔
پہلی نشانی
رہنمائی کے مطابق پہلی وارننگ سائن اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ ویزا لگنے کی 100 فیصد گارنٹی دے یا ڈن بیسز پر کام کرنے کا دعویٰ کرے۔
طلبہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ کنسلٹنٹ کا بنیادی کردار درخواست اور دستاویزات کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا ہے، ویزا کی ضمانت دینا نہیں۔
دوسری نشانی
دوسری اہم وارننگ سائن فوری فیس جمع کروانے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، اگر کوئی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ یہ کہہ کر جلد ادائیگی کا مطالبہ کرے کہ اسی وقت داخلہ یا ویزا پراسیس مکمل ہوسکتا ہے تو طلبہ کو محتاط رہنا چاہیے، دستاویزات کی تیاری، تصدیق، بینک اسٹیٹمنٹ، بلاک اکاؤنٹ اور ویزا اپائنٹمنٹ جیسے مراحل میں وقت درکار ہوتا ہے۔
تیسری نشانی
تیسری اہم بات یونیورسٹی کی ساکھ اور منظوری کی تصدیق ہے اگر کسی یونیورسٹی کی جانب سے داخلے کا آفر لیٹر یا کنفرمیشن لیٹر جاری کیا جائے تو فیس جمع کروانے سے پہلے اس کی منظوری اور مستند حیثیت کی جانچ ضروری ہے۔ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس اور متعلقہ عالمی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے پورٹل پر بھی چیک کریں۔
چوتھی نشانی
چوتھی وارننگ سائن ٹیوشن فیس کی ادائیگی سے متعلق ہے، طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کنسلٹنٹ یا ایجنٹ کے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے بجائے یونیورسٹی سے براہِ راست رابطہ کریں، اس کی ساکھ اور ادائیگی کے طریقہ کار کی تصدیق کریں اور یونیورسٹی کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق خود فیس جمع کروائیں۔
اس کے علاوہ ویزا مسترد ہونے کی صورت میں فیس کی واپسی (ریفنڈ پالیسی) سے متعلق معلومات بھی پہلے حاصل کرلیں۔
پانچویں نشانی
پانچویں اور اہم وارننگ سائن سوشل میڈیا یا واٹس ایپ کے ذریعے غیر تصدیق شدہ ادائیگیاں اور کنسلٹنٹس کی غیر واضح حیثیت ہے۔ طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی کنسلٹنٹ کے ساتھ کام کرنے سے پہلے اس کی ساکھ، تجربے اور کام کرنے کے دورانیے کی تصدیق کریں۔
ایسے افراد سے بھی محتاط رہیں جو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر جعلی دستاویزات فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔
ایم آر سی پی کی رہنمائی میں واضح کیا گیا ہے کہ جعلی دستاویزات کا استعمال ویزا مسترد ہونے اور مستقبل میں بلیک لسٹ ہونے جیسے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
ادارے نے بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ کو رقم ادا کرنے یا دستاویزات فراہم کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کریں اور کسی بھی غیر معمولی دعوے یا دباؤ میں آکر فیصلہ نہ کریں۔



