اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو شام کی انسانی اور سیاسی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ شامی علاقہ گولان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، خصوصاً قرارداد 338 اور 497 کے تحت شام کا حصہ ہے۔

عثمان جدون نے شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار، قومی مفاہمت اور معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور ملک کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔
ملالہ فنڈ کی اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل افشا! آمدن سے بھی لاکھوں ڈالر زائد اڑا دیے گئے، سنسنی خیز انکشافات
انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں اور شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سویدا سمیت دیگر تنازعات کو بات چیت اور پُرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ شام کی تعمیرِ نو، معیشت کی بحالی اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل عالمی تعاون اور انسانی امداد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی، سرمایہ کاری میں اضافے اور علاقائی و عالمی اقتصادی شراکت داری سے شام کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں، بشمول غیر ملکی جنگجوؤں، کے خلاف چوکس رہنے اور شامی سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ شام میں اسرائیلی سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ماہ شام کی صورت حال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے شامی علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شہریوں کو حراست میں لینے سمیت بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اس سے قبل اگست میں شمال مغربی شام کے ایک فوجی اڈے پر اسرائیل کے آٹھ فضائی حملے بھی رپورٹ ہوئے تھے۔ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے مزید علاقوں پر قبضہ کیا اور شامی فوج کے بھاری ہتھیاروں اور سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا تھا۔



