دنیا مارخور اور جنات کا یمن میں قہر محسوس کرنے لگی ہے۔

یمن کا صحرا حوثیوں کا قبرستان بن گیا؟ وہ پراسرار طاقت جس نے 24 گھنٹوں میں جنگ کا رخ بدل دیا!
یہ کوئی معمولی جنگ نہیں رہی بلکہ یمن کے تپتے ہوئے صحراؤں میں صدی کا سب سے بڑا فوجی معمہ بن چکی ہے۔ ایک ایسی فورس جس نے 2014 سے 2026 تک یمن کے نصف سے زیادہ حصے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس نے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم 14 ممالک کے جدید فوجی اتحاد، دنیا کے مہنگے ترین جنگی طیاروں اور جدید ہتھیاروں سے لیس یمنی سرکاری فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، وہ حوثی ملیشیا اچانک بکھرتی دکھائی دینے لگی ہے۔ یہ وہی ملیشیا ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور ریپبلکن گارڈز کی تربیت اور ایران کی جانب سے فراہم کیے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے سہارے مسلسل جنگ میں کامیابیاں حاصل کرتی رہی۔ تاہم کہانی میں اصل موڑ گزشتہ چند دنوں کے دوران آیا، جس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا۔
ملالہ فنڈ کی اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل افشا! آمدن سے بھی لاکھوں ڈالر زائد اڑا دیے گئے، سنسنی خیز انکشافات
خوف کی لہر: ’’یہ وہ فوجی نہیں جن سے ہم لڑتے رہے ہیں!‘‘
گزشتہ کچھ عرصے سے یمن کے محاذوں پر حوثیوں کے زمینی حملے شدید پسپائی میں تبدیل ہو رہے ہیں، جبکہ ان کے معروف اور سینئر کمانڈرز بھی مبینہ طور پر یکے بعد دیگرے میدانِ جنگ میں مارے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب تزویراتی اہمیت کے حامل باب المندب کے قریب حوثیوں کے ایک بڑے حملے کو مبینہ طور پر صرف 24 گھنٹوں کے اندر ناکام بنا دیا گیا اور جنگجو اپنی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
ابتدا میں اسے ایک معمول کی فوجی پسپائی سمجھا گیا، لیکن اس کے بعد محاذِ جنگ سے فرار ہونے والے حوثی جنگجوؤں کے وائرلیس پیغامات اور آڈیو ریکارڈنگز انٹرنیٹ پر لیک ہونے کے دعوے سامنے آئے۔ ان پیغامات میں مبینہ طور پر حوثی جنگجوؤں نے اعتراف کیا کہ ان کا سامنا روایتی یمنی سرکاری فوج یا سعودی اتحاد کے ان فوجیوں سے نہیں تھا جن کے خلاف وہ برسوں سے لڑتے آئے ہیں، بلکہ کسی مختلف فورس سے تھا۔ ان سے منسوب پیغامات میں کہا گیا کہ مخالفین کا لڑنے کا انداز بے رحم، گوریلا تکنیک انتہائی مؤثر اور رات کے اندھیرے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی مہارت غیر معمولی ہے، جس کے باعث ان کی صفیں درہم برہم ہوگئیں۔
ان مبینہ پیغامات کے بعد یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ یمن میں حوثیوں کا مقابلہ کرنے والی پراسرار ’’شیڈو فورس‘‘ (Shadow Force) آخر کس کی ہے۔
سی این این کے لائیو اسٹوڈیو میں تاریخ کا سنسنی خیز انٹرویو؟
اس دعوے کے مطابق، اس پراسرار فورس کے بارے میں جاننے کے لیے امریکی نیوز چینل سی این این (CNN) نے پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر کو اپنے لائیو اسٹوڈیو میں مدعو کیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالات بدلنے کے دوران پاکستانی فوج کے کردار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور انٹرویو کے دوران ہونے والی گفتگو نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔
سی این این کے اینکر نے مبینہ طور پر سوال کیا کہ یمن میں حوثی جنگجو، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گوریلا جنگ کی تربیت دی گئی تھی، اب میدان چھوڑ کر کیوں بھاگ رہے ہیں؟ کیا پاکستان کے ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز خفیہ طور پر یمن میں تعینات ہو چکے ہیں؟
اس بیان کے مطابق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ برادر ممالک اور تزویراتی شراکت داروں کی سلامتی کے لیے کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان کے بقول پاکستان حالات پر گہری نظر رکھتا ہے، تاہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اعلان نہیں کرتا۔
اینکر نے مبینہ طور پر مزید سوال کیا کہ حوثی جنگجو مخالف فورس کی رات کے اندھیرے میں کارروائیوں اور خطرناک لڑائی کی مہارت کا ذکر کر رہے ہیں، جو پاکستانی کمانڈوز سے منسوب کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ باب المندب کے قریب صرف 24 گھنٹوں میں حوثیوں کے حملے کو کیسے ناکام بنایا گیا اور کیا اس کارروائی میں پاکستانی فوجی زمین پر موجود تھے؟
اس تحریر میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے منسوب جواب میں کہا گیا کہ جب میدانِ جنگ میں ایک پیشہ ور اور روایتی فوج سامنے آتی ہے تو کرائے کے جنگجوؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر وہاں کوئی کارروائی معصوم انسانوں اور تزویراتی راستوں کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے تو دنیا کو اس پراسرار طاقت کی شکر گزار ہونا چاہیے۔ پاکستانی فوج کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ جہاں اس کے جوان قدم رکھتے ہیں، وہاں دشمن کے لیے ٹھہرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اینکر نے مبینہ طور پر پوچھا کہ کیا اس بیان کو پاکستان کی خفیہ فوجی کارروائی کا خاموش اعتراف سمجھا جائے اور کیا پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
اس تحریر کے مطابق، ڈی جی آئی ایس پی آر سے منسوب جواب میں کہا گیا کہ ہر شخص اس بیان کو اپنی مرضی کے مطابق سمجھنے کے لیے آزاد ہے، تاہم خطے کا امن تباہ کرنے والوں کا وقت ختم ہو چکا ہے اور جو کوئی بھی حد پار کرے گا، اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
بساط پلٹ گئی: حوثیوں کا ’’گیم اوور‘‘؟
اس تحریر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مبینہ انٹرویو نے عالمی میڈیا میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور دفاعی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یمن کی جنگ حوثیوں اور ان کے سرپرستوں کے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ اس میں پاکستان کے مبینہ ’’خاموش لیکن جارحانہ‘‘ تزویراتی کردار کو ایک ایسا موڑ قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یمن کے پہاڑوں اور صحراؤں میں نئی فوجی طاقت کے سرگرم ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
تحریر میں مزید کہا گیا ہے کہ برسوں سے ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے حوثی اپنی جانیں بچانے کے لیے غاروں کی طرف بھاگ رہے ہیں اور پاکستانی فوجیوں نے مبینہ طور پر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا رخ بدل دیا ہے۔
پاکستان پہلے مذاکرات اور درخواستوں کے ذریعے مخالفین کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اور انہیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ لیکن جب کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہو تو پاکستان بھرپور جواب دیتا ہے، مسلسل کارروائی کرتا ہے اور پیچھے نہیں ہٹتا۔
پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔



