Gas Leakage Web ad 1

گرمی صرف موسم نہیں، ہمارے شہروں کا امتحان ہے

0

گرمی ہر سال آتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھتا ہے، لوگ پنکھے تیز کرتے ہیں، ایئرکنڈیشنر چلتے ہیں، ٹھنڈے مشروبات کی طلب بڑھ جاتی ہے اور ہر شخص بارش کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے سے گرمی کے بارے میں ہماری گفتگو بدل رہی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ آج درجہ حرارت کتنا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے شہر اس گرمی کو برداشت کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔
اسلام آباد ہو، راولپنڈی، پشاور، لاہور، کراچی یا کوئی تیزی سے پھیلتا ہوا دوسرا شہر، شہری زندگی کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ کنکریٹ بڑھ رہا ہے اور قدرتی سبزہ کم ہورہا ہے۔ سڑکیں پھیل رہی ہیں، عمارتیں بلند ہورہی ہیں، گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر درخت، کھلے میدان، قدرتی پانی کے راستے اور سایہ دار مقامات مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف شہر کی خوبصورتی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ درجہ حرارت کے تجربے کو بھی بدل دیتی ہے۔
دن کے وقت کنکریٹ، سڑکیں اور عمارتیں سورج کی حرارت جذب کرتی ہیں۔ پھر یہ حرارت آہستہ آہستہ خارج ہوتی ہے۔ اسی لیے گنجان تعمیر شدہ علاقوں میں رات کے وقت بھی گرمی محسوس ہوسکتی ہے۔ ماہرین اسے شہری حرارتی جزیرہ یعنی Urban Heat Island کہتے ہیں۔
یہ مسئلہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ شدید گرمی صرف آرام کا مسئلہ نہیں رہتی، بلکہ صحت، معیشت، بجلی اور روزگار سے جڑ جاتی ہے۔
ایک مزدور جو آٹھ یا دس گھنٹے کھلی دھوپ میں کام کرتا ہے، اس کے لیے درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی اہم ہوسکتا ہے۔ تعمیراتی کارکن، ٹریفک پولیس اہلکار، رکشہ ڈرائیور، ڈیلیوری رائیڈر، سڑک پر کام کرنے والے افراد اور کسان شدید گرمی کا براہ راست سامنا کرتے ہیں۔
ہم اکثر گرمی سے بچنے کا حل ایئرکنڈیشنر کو سمجھتے ہیں، لیکن یہ مکمل حل نہیں۔ اگر پورا شہر گرم ہورہا ہو تو ہر گھر میں ایئرکنڈیشنر لگانا نہ معاشی طور پر ممکن ہے اور نہ توانائی کے اعتبار سے پائیدار۔
شہر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے شہر کی منصوبہ بندی بھی تبدیل کرنا ہوگی۔
درخت اس کا بنیادی حصہ ہیں۔ لیکن درخت صرف افتتاحی تختی لگانے اور تصویر بنوانے کے لیے نہیں لگائے جانے چاہئیں۔ ایسے درخت لگانے کی ضرورت ہے جو برسوں بعد حقیقی سایہ فراہم کریں۔ اسکولوں، اسپتالوں، سرکاری دفاتر، پارکوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں کے کناروں پر سایہ دار درخت شہری زندگی کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔
ہمیں اپنی عمارتوں کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ چھتوں کا ڈیزائن، ہوا کے گزرنے کا انتظام، کھڑکیوں کی سمت، سایہ اور تعمیراتی مواد سب گرمی کے اثرات کو کم کرسکتے ہیں۔ کئی ممالک میں عمارتوں کو اس انداز میں تعمیر کرنے پر توجہ دی جارہی ہے کہ وہ کم حرارت جذب کریں اور کم توانائی استعمال کریں۔
پاکستان میں یہ بحث ابھی بھی محدود ہے۔
ہم نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے وقت سڑکوں کی چوڑائی، پلاٹوں کے سائز اور کمرشل ایریاز پر توجہ دیتے ہیں، لیکن یہ سوال کم پوچھتے ہیں کہ یہاں دس سال بعد درخت کتنے ہوں گے؟ پیدل چلنے والے شخص کو دوپہر میں سایہ کہاں ملے گا؟ بارش کا پانی کہاں جائے گا؟ گرمی کی شدید لہر میں شہریوں کے لیے محفوظ جگہ کہاں ہوگی؟
یہ سوال دراصل مستقبل کے شہر کا تعین کرتے ہیں۔
گرمی کا تعلق بجلی سے بھی ہے۔ درجہ حرارت بڑھتا ہے تو ایئرکنڈیشنر اور کولنگ سسٹم کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ بجلی کی طلب بڑھتی ہے اور توانائی کے نظام پر دباؤ آتا ہے۔ اگر ہم شہر کی ساخت ایسی بنائیں کہ ہر گھر کو زیادہ سے زیادہ مشینوں کے ذریعے ٹھنڈا کرنا پڑے تو ہم ایک ایسے چکر میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں زیادہ گرمی زیادہ بجلی کا استعمال پیدا کرتی ہے اور زیادہ توانائی کی کھپت مزید ماحولیاتی دباؤ پیدا کرسکتی ہے۔
اس کے مقابلے میں درخت، سایہ، بہتر عمارتیں، قدرتی ہوا، سبز مقامات اور مناسب شہری منصوبہ بندی نسبتاً سستے مگر طویل المدت حل ہیں۔
اس مسئلے میں اسکول بھی اہم ہیں۔ بچوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ گرمی میں پانی زیادہ پئیں۔ اسکول کی عمارت، کھیل کا میدان، کلاس روم، بس اسٹاپ اور بچوں کے آنے جانے کے راستے بھی موسم کے مطابق ہونے چاہئیں۔
ہمیں گرمی کو ’’چند دنوں کا مسئلہ‘‘ سمجھنے کے بجائے شہری پالیسی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔
ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور نئے منصوبوں کا نام نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جس میں انسان آرام، صحت اور تحفظ کے ساتھ شہر میں زندگی گزار سکے۔
آنے والے برسوں میں کسی شہر کی کامیابی شاید اس بات سے بھی ناپی جائے گی کہ وہ شدید گرمی کے دن اپنے شہریوں کو کتنا محفوظ رکھ سکتا ہے۔
موسم ہمیں ہر سال خبردار کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ہر سال صرف گرمی برداشت کریں گے یا اپنے شہر کو گرمی برداشت کرنے کے قابل بھی بنائیں گے؟

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.