اسلام آباد: اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔
بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
بلوچستان: ہڑتال کرنے پر 20 گریڈکی پروفیسر سمیت 34 اساتذہ جبری ریٹائرڈ
اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ کسی نئے ترقیاتی منصوبے کے آغاز کا امکان نہیں، جبکہ پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
علاوہ ازیں سابق فاٹا کے ٹیکس استثنا کو ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا، جبکہ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ کے اہم نکات پر بریفنگ دیں گے۔