اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک سیاسی شخصیت سے وابستہ فرد کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلخانہ کو شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا سامنا ہے۔
اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ایک ایم پی اے کی جانب سے مسلسل آن لائن ہراسانی، ذہنی اذیت اور دھمکیوں کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں، تاہم سیاسی اثر و رسوخ کے باعث معاملے پر مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔
ایران پر 2 سے 3 روز میں حملہ کرسکتے ہیں، اس کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا: ٹرمپ کی دھمکی
مومنہ اقبال نے مزید دعویٰ کیا کہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی شکایات کو دبانے کی کوشش کی گئی، جبکہ بعض بااثر حلقوں کی جانب سے معاملہ خاموش کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا۔ ان کے مطابق قانونی کارروائی کی کوشش کے بعد ان کے خاندان کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اداکارہ نے خبردار کیا کہ اگر معاملے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو وہ پریس کانفرنس کر کے تمام ثبوت عوام کے سامنے پیش کریں گی۔
مومنہ اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدار اور قانونی کارروائی یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال یا انصاف میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
اداکارہ کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ کئی صارفین نے حکومتی اداروں اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہراسانی اور دھمکیوں سے تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔