ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کو منظم اقتصادی روابط تک وسعت دی جائے گی، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، شہری ترقی، زراعت، لاجسٹکس، سیاحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔
ایران پر 2 سے 3 روز میں حملہ کرسکتے ہیں، اس کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا: ٹرمپ کی دھمکی
اس موقع پر اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کو اس مشترکہ ورکنگ گروپ کی سربراہی سونپی گئی۔
اعلامیے کے مطابق ورکنگ گروپ میں دونوں ممالک کے متعلقہ سرکاری محکمے اور تکنیکی ماہرین شامل ہوں گے جو تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کریں گے۔ یہ گروپ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مواقع کو منظم کرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے درمیان ہم آہنگی اور منصوبوں کی ترقی میں بھی سہولت فراہم کرے گا۔
ملاقات میں انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ، زراعت، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے فریم ورک تجویز کرنے اور ریگولیٹری سہولت کاری اور کاروبار میں آسانی کے لیے مؤثر میکانزم تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور آذربائیجان کے مابین ترجیحی تجارتی معاہدے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس کا مقصد مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانا، تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آذربائیجان کے وزیرِ اقتصاد کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نئے قائم کردہ ورکنگ گروپ کے ذریعے قریبی ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی اور بات چیت کو قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے فالو اپ سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا۔