اسلام آباد میں بینظیر نشوونما پروگرام کے جائزہ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی آزادانہ تحقیق کے مطابق خواتین مستفیدین کے بچوں میں غذائی کمی کی شرح میں 22 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ نے ان نتائج کو پاکستان کے سماجی تحفظ کے شعبے کی ایک اہم کامیابی قرار دیا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے اجلاس کو بتایا کہ یہ پروگرام ملک کے 157 اضلاع میں 578 سہولت مراکز اور 169 استحکامی مراکز کے ذریعے 45 لاکھ سے زائد خواتین اور بچوں تک پہنچ چکا ہے۔
اجلاس کے دوران نیشنل کمیشن آن چائلڈ رائٹس کی عائشہ رضا فاروق، آغا خان یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ ماہرِ صحت ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی انیتا زیدی نے بینظیر نشوونما پروگرام کو سماجی تحفظ کا ایک مؤثر ماڈل قرار دیا اور خواتین و بچوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان کی قیادت کو سراہا۔