پاکستان نے یوکرین میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ منصفانہ، دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول امن کے حصول کے لیے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جائے، کیونکہ مکالمہ ہی اس تنازع کا واحد قابل عمل حل ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کی امن و سلامتی سے متعلق بریفنگ کے دوران پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے پاکستان مشن کے قونصلر محمد کامران تاج نے کہا کہ یوکرین کا تنازع اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے اور یہ صورتحال بدستور عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے، جبکہ اس سے پہلے ہی سنگین انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
ایران کا جواب تاحال موصول نہیں، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری: عطا تارڑ
انہوں نے کہا کہ پاکستان جاری لڑائی پر شدید تشویش رکھتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں متاثرہ آبادیوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، اعتماد کا فقدان پیدا ہو رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو ان اصولوں کی مکمل پابندی کرنی چاہیے۔
انہوں نے ان حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا جو امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں، اور کہا کہ پاکستان نے روس اور یوکرین کی جانب سے ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں قیدیوں کے تبادلے کو بھی سراہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات پیش رفت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور دونوں فریقین کو اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہیے۔
تنازع کے آغاز سے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نقطہ نظر مکالمے کی اہمیت پر مبنی ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ صرف پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی اس بات کی حمایت بڑھ رہی ہے کہ اس تنازع کا حل سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے، اور ایک مسلسل، بامعنی اور منظم مذاکراتی عمل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں موجودہ تعطل عارضی ثابت ہوگا اور جلد بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نزدیک دونوں فریقین کو سفارتکاری سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایک جامع اور تعمیری حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے، جو باہمی طور پر قابل قبول ہو، فریقین کے جائز سکیورٹی مفادات کی عکاسی کرے اور اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ ہو۔
بیان کے اختتام پر محمد کامران تاج نے اس تنازع کے پرامن، جامع اور پائیدار حل کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔