نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا خاص طور پر پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم بدقسمتی سے 2 ارب آبادی کے اس خطے کا مجموعی جی ڈی پی صرف 4 ٹریلین ڈالر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس، ہیلتھ سیکٹر کا جائیزہ لیا گیا
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران تنازع کی وجہ سے خطے کی معیشت اور تجارت متاثر ہوئی ہے، اور پاکستان شروع دن سے اس تنازع کے حل کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کے درمیان تجارت کا باقاعدہ کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں کو بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی، جبکہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ٹرانزٹ شپمنٹ کے لیے ایک آئیڈیل ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال بعد ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی پاکستان کے لیے قابل فخر ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ لبنان میں سیزفائر کے بعد آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے مذاکرات میں صرف چند نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔