لاہور(نمائندہ خصوصی)آئی جی فارسٹ قادر شاہ نے کہاہے کہ مارخور کے لئے ایک مخصوص علاقہ ہے۔اس علاقہ میں مارخور سمیت دیگر جانور ہوتے ہیں ۔
ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مارخور کی 1990 میں تعداد بالکل گر گئ تھی۔پاکستان کا 18% علاقہ مارخور اور برفانی چیتے کے لئے ہے ۔
ان کا کہناتھاکہ سن 2000 میں ٹرافی ہنٹنگ کے لئے لائحہ عمل بنایا گیا ۔شروع میں 6 اور بعد میں 12 مارخور کے شکار کا کوٹہ ہوا۔
انہوں نے کہاکہ یہ شکار کا کوٹہ بین الاقوامی درجہ پر جاتا ہے۔گزشتہ برس مار خور کا سب سے مہنگا شکار پرمٹ 1 لاکھ 86 ہزار ڈالر کا بکا ۔اس رقم کا بیس فیصد حصہ محکمہ جنگلی حیات کو گیا ۔
ان کا کہناتھا کہتین سے پانچ ہزار مارخور اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔
منسٹری اس سب پر کارڈنیشن کا ادارہ ہے۔صوبائی وائلڈ لائف تمام کام دیکھتی ہے ۔