Gas Leakage Web ad 1

امریکی مڈٹرم الیکشنز کی 76 سالہ روایت: صدر کی پارٹی ہی نقصان کیوں اٹھاتی ہے؟

0

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کی تاریخ بتاتی ہے کہ عموماً صدر کی حکمران جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، 1946 سے 2022 تک ہونے والے 20 مڈٹرم الیکشنز میں صرف دو مواقع پر ہی وائٹ ہاؤس میں برسر اقتدار جماعت ایوان نمائندگان کی جیتی ہوئی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

Gas Leakage Web ad 2

حالیہ مڈٹرم انتخابات میں بھی ری پبلکنز کی کئی نشستوں پر ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

امریکی سیاست میں انتخابات صرف صدارتی انتخاب تک محدود نہیں، صدارتی انتخاب کے دو سال بعد ہونے والے مڈٹرم انتخابات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں جو صدر کی چار سالہ مدت کے دو سال مکمل ہونے پر منعقد ہوتے ہیں۔

ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوتا ہے، جو اگلے دو برس کے لیے کانگریس میں طاقت کا توازن طے کرتے ہیں۔

اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پر نہیں ہوتا، تاہم ان انتخابات کو صدر کی کارکردگی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور زیادہ تر حکمران جماعت کو اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے، جسے ماہرین ’مڈٹرم پنالٹی‘ یا ’صدارتی سزا‘ کہتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 1946 سے 2022 کے دوران 20 مڈٹرم انتخابات میں سے 18 مرتبہ صدر کی جماعت کو ایوان نمائندگان میں نشستوں میں کمی یا اکثریت کھونے کا سامنا کرنا پڑا۔

اس 76 سالہ عرصے میں صرف دو بار اس رجحان کے برعکس نتائج آئے، پہلی بار 1998 میں صدر بل کلنٹن کے دور میں جب مواخذے کی کارروائی کے باوجود ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز سے 5 نشستیں چھین لیں، اور دوسری بار 2002 میں نائن الیون حملوں کے ایک سال بعد جب صدر جارج ڈبلیو بش کی مقبولیت عروج پر تھی اور ری پبلکنز نے ڈیموکریٹس کی 8 نشستیں اپنے نام کرلیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.