امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال بھی نوبیل امن انعام نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انعام کے فیصلے کو شرمناک قرار دے دیا۔

گزشتہ روز رائل سوئیڈش اکیڈمی نے نوبیل امن انعام 2026 کا اعلان کیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش اس بار بھی پوری نہ ہوسکی۔
اس سال نوبیل امن انعام جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل ناوانیتھم ناوی پلے کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مشروط حمایت کردی
خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ دینے کے فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ناروے کی ساکھ پر داغ لگا دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق نیویارک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ناروے کو نہیں بھولیں گے کہ اس نے امریکا کو نوبیل امن انعام نہیں دیا۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل ناوانیتھم ناوی پلے کو امن اور عالمی قانون کے فروغ کے لیے نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔
ناوانیتھم ناوی پلے نے جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کا سامنا کرتے ہوئے پرورش پائی۔ وہ جنوبی افریقا کی ان اولین بھارتی نژاد خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ نسل پرستی کے خلاف سرگرم افراد کا عدالتوں میں دفاع کرتی رہیں اور جیلوں کے ناقص حالات کے خلاف بھی جدوجہد کرتی رہیں۔
نوبیل امن انعام جیتنے کے بعد ناوی پلے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہلکے پھلکے انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کچھ اور تالیاں بجائیں تو شاید میں اپنا انعام ٹرمپ کے ساتھ بانٹ لوں۔



