امریکا نے چین پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے تجارتی دھوکے بازی کا الزام عائد کردیا۔
امریکی وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق چین میں تیار کی جانے والی اشیا کو امریکی ٹیرف سے بچانے کے لیے بھارت، اسرائیل، کینیڈا، یورپی یونین، ترکیہ، جاپان اور ملائیشیا سمیت 40 سے زائد ممالک کے راستے امریکا منتقل کیا جاتا ہے۔
’شاید یہ میرا آخری سال ہو‘ رونالڈو نے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے دیا
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے باعث امریکا کو سالانہ 26 ارب ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، تاہم اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا۔
دوسری جانب چین نے امریکا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیرف اور تجارتی جنگیں کسی کو فاتح نہیں بناتیں۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔