چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف لوٹنے کے خطرے سے دوچار ہو رہی ہے۔
بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات کی کامیابی کی بنیادی وجہ سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں طاقت کے استعمال اور کشیدگی میں اضافہ عالمی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
پاک امریکہ اسپورٹس ڈپلومیسی ;فیفا ورلڈ کپ مہم کااسلام آباد سے آغاز
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ترقی اور بحالی میں تعاون جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باوجود روس ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات عالمی استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
روسی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین اور روس کو ایک منصفانہ اور متوازن عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سطح پر تعاون اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ اس وقت مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور لڑائی کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے توانائی کی سپلائی میں استحکام آئے گا جبکہ عالمی تجارتی نظام کو درپیش رکاوٹیں بھی کم ہوں گی۔
شی جن پنگ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی پیدا کرنا غیر دانشمندانہ اقدام ہو گا کیونکہ اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ کو اگلے سال روس کے دورے کی دعوت بھی دی۔