امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر بھی بات کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ملاقات ویک اینڈ پر ہو سکتی ہے، اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
حکومت نے جانوروں پر ظلم کی روک تھام کیلئے کمیٹی قائم کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب جنگ بندی میں مزید توسیع کی ضرورت نہیں ہے اور ایران اب ان امور پر آمادہ ہے جن پر پہلے رضامند نہیں تھا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا اور نہ ہی اپنے پاس رکھے گا بلکہ اپنا جوہری مواد بھی حوالے کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب ایران کے پاس نہ لیڈرشپ باقی رہی ہے اور نہ ہی اس کی فضائیہ، بحریہ اور فوج مؤثر حالت میں موجود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران سے معاہدہ طے پا گیا تو وہ دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے جنگ بندی مذاکرات میں کردار کو سراہتے ہوئے انہیں عظیم انسان قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے آج ٹیلیفون پر مثبت بات چیت ہوئی ہے اور دونوں فریق جنگ بندی پر رضامند ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنان کے صدر سے ملاقات کریں گے۔