امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کو کامیاب اور تاریخی قرار دیا اور کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایران جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کی اور امریکا نے ایک فیصلہ کن آپریشن کے ذریعے ایران کو شکست دی۔
9 اور 10 اپریل کی تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی فوجی طاقت کا صرف 10 فیصد استعمال کیا اور ایران کی اسلحہ ساز فیکٹریوں، فضائیہ اور بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سیکڑوں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے گئے جبکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی، عسکری اور انٹیلیجنس قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا۔
امریکی وزیر جنگ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہیں اور ایران مزید امریکی حملوں کا مقابلہ نہ کر سکا جس کے باعث اسے جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب امن کا ایک حقیقی موقع پیدا ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے، جس کی نگرانی امریکی بحریہ کرے گی۔
ہیگسیتھ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایک بھی میزائل فائر کیا تو امریکی طیارے دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہوں گے، جبکہ انہوں نے اس جنگ بندی کو صدر ٹرمپ کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر امریکی صدور صرف بیانات دیتے رہے جبکہ ٹرمپ نے عملی اقدامات کیے، اور ایران نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکا سے ٹکر لینے کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جنرل ڈین کین نے کہا کہ 38 روزہ آپریشن میں امریکا نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس موقع پر امریکی قیادت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران 13 امریکی فوجیوں کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جبکہ 520 اہلکار ایرانی حملوں میں زخمی ہوئے۔
جنرل کین کے مطابق حالیہ پائلٹ ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا اور اس آپریشن کے دوران دشمن کے علاقے میں داخل ہو کر پائلٹ کو بحفاظت نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریت میں پھنس جانے والے امریکی طیاروں کو خود تباہ کیا گیا تاکہ ان کی ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ریسکیو آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جسے انہوں نے ایک عسکری معجزہ قرار دیا۔
جنرل ڈین کین نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو 90 فیصد تک تباہ کر دیا گیا ہے اور اب یہ بڑا خطرہ نہیں رہا۔