امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد امریکا نے "100 فیصد فتح” حاصل کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک پہلے ہی موجود ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔ ان کے مطابق 15 نکاتی منصوبے کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ باقی معاملات پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری مواد کسی بھی حتمی امن معاہدے کا لازمی جزو ہوگا، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا، مثبت اقدامات کیے جائیں گے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے، جبکہ امریکا آبنائے ہرمز میں مختلف نوعیت کی سپلائیز فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور صورتحال پر نظر رکھے گا تاکہ نظام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی امریکا کی فتح ہے اور یہ کامیابی امریکی صدر اور فوج کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے جنگ بندی ممکن بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور امریکی فوج کی کارکردگی غیر معمولی اور قابل تعریف رہی ہے، جبکہ امریکا خطے میں استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ فوجی کامیابی نے زیادہ دباؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو سخت مذاکرات کا موقع ملا، اور اب ایک سفارتی حل اور طویل المدتی امن کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی امریکا کے مفادات کے تحفظ اور امن کے قیام کی صلاحیت کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔