اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس فیصلے کو بعض شرائط سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ ان شرائط کے تحت ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف حملے بند کرنا ہوں گے۔
دشمن کو عبرتناک شکست، امریکا ہمارا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور ہوگیا: ایران
اسرائیلی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی سے متعلق خطرات سے روکنا ہے، اور اسرائیلی مؤقف کے مطابق ایران کو خطے میں ایک سکیورٹی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی طرف سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے کا فیصلہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔