Gas Leakage Web ad 1

یوم یکجہتی کشمیراور ہماری ذمہ داریاں 

0
Gas Leakage Web ad 2
تحریر:۔ محمد جاوید ملک 
  قوموں کی ترقی اور زوال میں نظریات کا ہمیشہ اہم رول رہا ہے جو قومیں اپنے نظریات وافکار کا دفاع اور پرچارکرتی رہی ہیں وہ ترقی کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی رہیں اور جس قوم نے بھی اپنے نظریات وافکار کی پرواہ نہیں کی ان کے مقدرمیں تباہی و بربادی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں رہا۔برصغیر پرساڑھے چودہ سو سال مسلمانوں نے حکومت کی اور پھر نظریات سے ہٹ جانے کی ایسی سزا ملی کہ اس بڑی سلطنت پر مسلمانوں کا راج ختم ہو گیا اور انگریزوں اور ہندووں نے اس قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا صدیاں گزرنے کے بعد بھی مسلمان اپنی سابقہ ساکھ کو بحال نہ کر سکے۔انگریزوں اور ہندووں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے سرسید احمد خان، قائد اعظم محمد علی جناح،علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، چوہدری رحمت علی سمیت مسلمان لیڈروں نے مسلم لیگ کے پرچم تلے دو قومی نظریہ کی جو تحریک شروع کی اور اس نظریہ کی پاسداری میں جہاں انہیں بے پناہ اذیتوں اور تکلیفوں سے گزرناپڑا وہاں اس نظریہ کے استقلال میں کہیں کوئی لرزش نہیں آئی اور مسلسل جدوجہد اور انتھک محنت کی بدولت 14 اگست 1947کو مملکت خداداد پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر آگیا۔تحریک آزادی پاکستان کی جدوجہد میں ریاست جموں وکشمیرکے لوگوں کا بھی بڑااہم کردارہے جھنوں نے محبت پاکستان میں لاکھوں کے حساب سے جانی ومالی قربانیاں دیں۔03جون 1947کو قانون آزادی ہند کے مطابق برصغیر کی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں شامل ہوسکتی ہیں قانون آزادی ہند کے بعد 19 جولائی 1947کو ریاست جموں وکشمیر کی نمائندہ جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے اپنے اجلاس میں قراداد الحاق پاکستان منظور کر کے کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کے حق میں دے دیا برصغیر کی تقسیم کے وقت گلاب سنگھ کا نسلی وارث ہری سنگھ نے انگریزوں سے سازباز کر کے اور ریاست  جموں وکشمیرکی جغرافیائی وابستگی اور ریاست کے 98%  مسلمانوں کی مذہبی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ریاست کو پاکستان کے ساتھ شامل نہ ہونے دیا اور جب مہاراجہ نے کشمیریوں کی خواہشات کے خلاف بھارت سے کشمیر کا الحاق کرنے کا نام نہاد اعلان کیا تو پوری ریاست میں مہاراجہ کے خلاف غم وغصہ کی لہر دوڑگئی ریاست جموں وکشمیر میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گے تو ریاست کے لوگوں نے آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پرچم تلے ڈوگرہ فوج کو ہر محاذ پر شکست دی جس کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1947کو جموں وکشمیر کی آزاد حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ مجاہد اول سردار محمدعبدالقیوم خان کے1970  کے دور اقتدارمیں نظریہ الحاق کو پہلی بار آئین کا حصہ بنایا گیا اور تمام ملازمین کے لیے ضروری قرار دیا گیا کہ وہ نظریہ الحاق پاکستان پر حلف اٹھائیں گے۔ تعلیمی اداروں میں کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لازمی قرار دیا گیا اور پھر 1970کے بعد جو بھی حکومت آزاد کشمیر میں برسراقتدار آئی وہ نظریہ الحاق پاکستان پر پور ی طرح کار بند رہی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی تمام سیاسی، سماجی، مذہبی جماعتیں،تنظیمیں اور عوام اپنے سیاسی، نظریات و مفادات سے بالا تر ہوکر ملت اسلامیہ کے عظیم قلعہ اوردنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت کے حامل مملکت خداداد پاکستان اور اپنی مسلح افواج پاکستان کے استحکام اور دفاع کے لئے اسی جذبہ کے ساتھ متحد ومنظم ہوں جیسے برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ہی نقطہ پر پاکستان کے حصول کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں وطن حاصل کیا تھا جب تک بحیثیت قوم ہم ایک نہیں ہوجاتے ہمارے دشمن کے مذموم مقاصد کامیاب ہوتے رہیں جس سے وطن عزیزکوناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے خدشات موجود ہیں،بطور مسلمان اور وطن سے محبت کا تقاضا ہے ہر شخص اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر قومی مفادات کا تحفظ کرئے ریاست مضبوط ہوگئی تو سیاست بھی ہوگی۔ریاست پر سیاست کو مقدم نہ رکھا جائے، جب بطور قوم ہمیں اپنے وطن کے مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا اور سیاسی اور جمہوری لحاظ سے بھی پاکستان کے استحکام کے ساتھ اعلیٰ روایات اور اخلاقیات کا بھی عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آئین پاکستان کی حفاظت،قانون کی بالادستی اور انصاف کو حقیقی معنوں میں فروغ سمیت مسلح افواج پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کے لئے ہر قسم کی جانی ومالی قربانی دینے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔وطن عزیز کی حفاظت کے لئے جان کی قربانی دینے والے جانثاروں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کا ہم سب سے ایک ہی تقاضا ہے کہ ہم ایک قوم بن کر وطن کو عظیم سے عظیم تر بنائیں۔پاکستان کو دنیا کا ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے معاشی واقتصادی لحاظ سے مضبوط بنانا ہوگا۔
اس سال  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ،صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کی ہدایات پر پاکستانی و کشمیری عوام اور حکومتیں یوم ”یکجہتی کشمیر“اس عہد اور عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ جب تک بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر بھارت کے چنگل سے آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتی اس وقت تک کشمیریوں کی سیاسی،سفارتی و اخلاقی سطح پر ہر فورم پر حمایت جاری رہے گی۔صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی وسماجی و مذہبی جماعتوں،حریت قیادت اور سول سوسائٹی سے بھی بھرپور اپیل کی ہے کہ وہ یوم یکجہتی کشمیرکوسیز فائر لائن کے اس طرف اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری اس دن کو تجدید عہد کے ساتھ منائیں۔جلسے جلوس،ریلیاں،سیمینارز منعقد کرئے گی جن کے ذریعے پاکستانی ملت اقوام عالم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی پر امن تحریک آزادی میں کشمیری عوام تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے 22کروڑ عوام ان کی پشت پر ہیں۔اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد ایک طرف پاکستانی اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور دوسری طرف بین الاقوامی دنیا کو باور کرانا ہے کہ ہند و ستان نے گزشتہ76 سالوں سے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر پر جو جابرانہ اور غاصبانہ تسلط قائم کررکھا ہوا ہے اسے کشمیری کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری 1975 کو اندراعبداللہ کٹھ جوڑ پر سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کے ساتھ ہڑتال کی اور1990 میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی کال دی جس کے بعد 05 فروری کو ہر سال سرکاری طور پر پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جاتاہے05 فروری کوپاکستانی حکومت اور عوام کشمیریوں سے اپنی محبتوں کا والہانہ اظہارکر تے ہیں اس دن آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کا جوائنٹ سیشن ہوتا ہے جس میں وزیر اعظم پاکستان خصوصی شرکت کرتے ہیں جبکہ پاکستان او ر آزادکشمیر کو ملانے والے پلوں اور انٹری پوانٹس کوہالہ، آزاد پتن، ہولاڑ، منگلا،دھان گلی پل اور دیگرمقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جانے کے علاوہ تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں جن میں وفاقی، صوبائی وزراء کرام،آزادکشمیر کے وزراء کرام کے علاوہ تمام سیاسی و سماجی جماعتوں کے راہنماؤں،وکلاء،سرکاری ملازمین، منتخب نمائندگان، کالجوں اور سکولوں کے طلباء،وکلاء،پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے نمائندگان، انجمن تاجراں، ٹرانسپورٹرز،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بناتے ہیں۔ ضلع میرپو رمیں منگلا اور دھان گلی پلوں پر دونوں اطراف کے عوام کا سمندر انسانی زنجیربنا کر والہانہ محبتوں کا اظہار کرتے ہیں اور کشمیری اور پاکستانی عوام اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ کشمیری اورپاکستانی ازل سے جن مضبوط اورلازوال خونی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کرسکتی۔کشمیری پاکستان کو نہ صرف اپنابڑا بھائی اور وکیل سمجھتے ہیں بلکہ پاکستان کو اپنی امیدوں کا محورومرکزکے ساتھ ساتھ پوری امت مسلمہ کا نجات دھندہ بھی سمجھتے ہیں۔ کشمیر ہمیشہ سے پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ رہا ہے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ہردور میں پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی ہر سطح پرسیاسی وسفارتی حمایت جاری رکھی اور آج تک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی تمام حکومتوں نے مضبوط اور دو ٹوک موقف اختیار کیے رکھا۔مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کا تنازعہ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑانسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔جب تک کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت نہیں مل جاتا کشمیری اپنی آزادی کی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 1947 سے اب تک مقبوضہ ریاست کی آزادی کے لیے کشمیری بر سرپیکار ہیں جموں وکشمیرکی آبادی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بعد الحاق پاکستان کی داعی ہے ریاست کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد بھارت کی غلامی سے نجات حاصل کر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کریں۔پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے بھی مسئلہ کشمیر پردو ٹوک، اصولی، جرات مندانہ اور مضبوط موقف اختیار کیا ہے جس سے دونوں جانب کے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اہل کشمیر حکومت پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کے شکرگزار ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل تک کشمیریوں کے اصولی اور اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حصول کے لئے بھرپورحمایت جاری رکھے گی۔ کشمیری پاکستان کو مضبوط ومستحکم دیکھنا چاہتے ہیں چونکہ مضبوط اور مستحکم پاکستان ہی تحریک آزادی کشمیر کا ضامن ہے۔بھارت جو خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لیکر گیا تھاوہ گزشہ 76 سالوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کر کے نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہاہے۔عالمی طاقتوں نے اگر مسئلہ کشمیر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا کوئی باوقار اور پرامن حل نہ نکالا تو جنوب ایشاء کاامن جہاں تباہ وبرباد ہوجائے گا وہاں پوری دنیاکے امن پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔عالمی امن کے علمبرداروں کو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کروانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تب ہی جاکرجنوب ایشاء میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔
sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.