بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کو پروٹیکٹر رجسٹریشن کے نام پر سرگرم غیر مجاز ایجنٹس اور جعل سازوں سے خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے متنبہ کیا ہے کہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے نام پر اضافی رقم وصول کرنے، فوری کلیئرنس دلوانے یا پاسپورٹ اور اصل دستاویزات اپنے پاس رکھنے کا دعویٰ کرنے والے افراد پر اعتماد نہ کریں۔
بیرون ملک ایمپلائمنٹ یا ورک ویزے پر جانے والوں کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن لازمی ہے، تاہم یہ عمل صرف مقررہ سرکاری طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے منظور شدہ ای پروٹیکٹر نظام یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ کے سرکاری دفتر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بیورو نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو پروٹیکٹر آفس کا نمائندہ ظاہر کرکے اضافی رقم کے عوض فوری رجسٹریشن کی پیشکش کرے، پاسپورٹ رکھنے پر اصرار کرے یا سرکاری فیس کے علاوہ سروس چارجز مانگے تو اس پر اعتماد نہ کیا جائے، مکمل دستاویزات کے بغیر کلیئرنس دلوانے کا دعویٰ بھی فراڈ ہوسکتا ہے۔
بیورو کے مطابق پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کا ایسے غیر مجاز ایجنٹس سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا شہری پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ویزا اور ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ سمیت اصل دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں، ایسا کرنے سے دستاویزات چوری ہونے، شناختی معلومات کے غلط استعمال اور جعلی ویزے بنانے کا خدشہ ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کی تصاویر واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر نامعلوم افراد کو نہ بھیجیں۔
درست طریقہ کار یہ ہے کہ درخواست گزار ای پروٹیکٹر نظام کے ذریعے خود آن لائن درخواست جمع کرائیں یا پروٹیکٹوریٹ کے سرکاری دفتر میں کارروائی مکمل کریں، درخواست خود جمع کرائیں، سرکاری فیس کی تصدیق کریں اور ادائیگی کی رسید حاصل کریں۔
بیورو نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص رجسٹریشن کے نام پر رقم یا پاسپورٹ طلب کرے تو اس کا نام، فون نمبر، مقام اور پیغامات محفوظ رکھیں اور مزید رقم یا دستاویزات نہ دیں، فراڈ کی صورت میں ایف آئی اے ہیلپ لائن 991 پر اطلاع دیں اور شکایت کی نقل بیورو یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ کو بھی فراہم کریں۔



