’پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026‘ کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے منظوری دے دی ہے، جس کے تحت غیر معیاری کاسمیٹکس تیار کرنے، فروخت کرنے اور درآمد کرنے پر 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اہم اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ’پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026‘ کا جائزہ لیا گیا اور اس کی مختلف شقوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران بحث کے بعد قائمہ کمیٹی نے بل کی باقاعدہ منظوری دے دی۔
ہزاروں ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ اور رعائتیں، تفصیلات سامنے آگئیں!
مجوزہ قانون کے تحت ملک میں غیر معیاری اور مضرِ صحت کاسمیٹکس کی تیاری اور فروخت کی روک تھام کے ساتھ ان مصنوعات کی کڑی نگرانی کے لیے ایک خصوصی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔
وزارتِ قانون اور بل کے متن کے مطابق نئی قانون سازی کے تحت غیر معیاری کاسمیٹکس کی تیاری، فروخت اور درآمد میں ملوث افراد کو 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
متعلقہ حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت کاسمیٹکس کی تیاری اور فروخت کے شعبے پر مؤثر کنٹرول موجود نہیں، جبکہ ایک مضبوط نگران اتھارٹی کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے عناصر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
غیر معیاری کاسمیٹکس اور خطرناک کیمیکلز پر مشتمل مصنوعات جلد کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے باعث ان مصنوعات کی تیاری اور فروخت کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
مناسب قانون سازی اور معیار کے مؤثر ضوابط نہ ہونے کے باعث پاکستان سے کاسمیٹکس کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں، حالانکہ مقامی صنعت میں عالمی سطح پر ترقی کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
نئی قانون سازی اور درآمدی و مقامی طور پر تیار کردہ کاسمیٹکس مصنوعات کی سخت نگرانی کے ذریعے پاکستان میں کاسمیٹکس کی ایک منظم اور باقاعدہ صنعت کے قیام کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس کے دوران خالد مگسی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی منڈی میں پاکستانی کاسمیٹکس مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق سخت کوالٹی اسٹینڈرڈز نافذ کرنا نہایت ضروری ہے۔



