Gas Leakage Web ad 1

بیرون ملک تربیت اور ڈیپوٹیشن سے واپسی پر افسران کیلئے سخت اقدامات، ڈگری تصدیق اور مالی ضمانت لازمی قرار

0

اسلام آباد: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک تعلیمی پروگراموں، وظائف اور ڈیپوٹیشن سے واپس آنے والے سول سرونٹس کے لیے ڈگریوں کی تصدیق اور مالی ضمانتوں کی سخت نگرانی سے متعلق لازمی شرائط عائد کر دی ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

نئے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اخراجات پر بیرونِ ملک تربیت اور تعلیمی دوروں کو اب غیر معینہ مدت کی رخصت تصور نہیں کیا جائے گا، جبکہ قواعد کی خلاف ورزی پر ملازمت اور مالی معاملات میں سخت سزاؤں کا نظام بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔

تعلیمی رخصت کے بعد بیرونِ ملک جامعات یا ملک کے اندر تعلیمی پروگراموں سے واپس آنے والے بیوروکریٹس اکثر اپنی حتمی اسناد جمع کرانے میں تاخیر کرتے تھے، تاہم نئے سرکلر کے ذریعے اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے سخت شرائط نافذ کر دی گئی ہیں۔

نئے سرکلر کے مطابق تعلیمی رخصت یا بیرونِ ملک وظائف سے واپس آنے والے افسران کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنی جوائننگ رپورٹ کے ساتھ ڈگری سرٹیفکیٹ کی مصدقہ نقل یا سرکاری تعلیمی ٹرانسکرپٹ جمع کرائیں۔ اگر کوئی افسر معقول اور مصدقہ وجہ کے بغیر اپنی ڈگری جمع کرانے میں ناکام رہتا ہے تو اسے باضابطہ طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔
صحت کارڈ پلس پروگرام میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس، تحقیقات شروع
اگر کسی غیر ملکی جامعہ کی جانب سے باضابطہ ڈگری کے اجرا میں تاخیر ہو رہی ہو تو متعلقہ افسر کو تعلیمی ادارے کی ایسی قابلِ تصدیق دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی جو اس کی تعلیمی کارکردگی کے تسلی بخش ہونے کی تصدیق کریں اور ڈگری کے اجرا میں تاخیر کی قابلِ جواز وجہ بھی بیان کریں۔ ان دستاویزات کے بغیر افسر کو دوبارہ ڈیوٹی جوائن کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دستاویزات جمع ہونے کے بعد ڈگری اور جوائننگ رپورٹ فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ٹریننگ ونگ کو ارسال کی جائیں گی، تاکہ مرکزی ریکارڈ کو مستقل بنیادوں پر ہم آہنگ اور مرتب رکھا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات پر فراہم کیے جانے والے وظائف اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں سے متعلق مالی معاملات میں موجود بڑی خامیوں کو دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، کیونکہ ماضی میں بعض افسران لازمی مدتِ ملازمت پوری کیے بغیر ملازمت چھوڑنے یا استعفیٰ دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کی روک تھام کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہر اس افسر کے مالی واجبات کا مرکزی بیان تیار کرنے کا طریقۂ کار متعارف کرایا ہے جو ضمانتی بانڈ پر دستخط کرتا ہے۔

اب ٹریننگ ونگ (ٹی ونگ) اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ فوری طور پر ایگزیکٹو ونگ (ای ونگ) کو مالی تفصیلات فراہم کرے۔ ان تفصیلات میں وظیفے کی اصل لاگت، تربیت کے اخراجات اور افسر کو ادا کی گئی وہ تمام رقوم شامل ہوں گی جن کی واپسی ممکن ہو۔ مالی واجبات کے بیان میں لازمی مدتِ ملازمت بھی واضح طور پر درج ہوگی، جس کے دوران افسر کو وطن واپسی کے بعد ریاست کی خدمت انجام دینا ہوگی۔ اس دستاویز میں ضمانتی بانڈ کی خلاف ورزی کی شرائط بھی واضح کی جائیں گی، جن میں غیر منظور شدہ استعفیٰ دینا یا ملازمت ترک کرنا شامل ہے۔

اس کے ساتھ متعلقہ افسر سے قابلِ وصول مالی جرمانے کی درست رقم بھی درج کی جائے گی۔ مالی واجبات کا یہ بیان افسر کی ذاتی فائل کا بنیادی حصہ ہوگا، اور جب بھی اس کے ملازمتی معاملات یا شرائط سے متعلق کوئی انتظامی فیصلہ زیرِ غور آئے گا تو اسے مجاز حکام کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کرنا لازم ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ منظور شدہ رخصت، تعلیمی رخصت یا ڈیپوٹیشن میں توسیع کے لیے درخواست دینا بذاتِ خود افسر کی مسلسل غیر حاضری کا جواز نہیں بنے گا۔ افسران اس بات کے پابند ہوں گے کہ منظور شدہ مدت مکمل ہوتے ہی ڈیوٹی پر رپورٹ کریں، خواہ ان کی توسیع کی درخواستیں ابھی منظوری کی منتظر ہوں۔ جوائننگ رپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں افسر کو بغیر اجازت غیر حاضر تصور کیا جا سکتا ہے، جبکہ معاملہ مناسب ہدایات کے لیے اعلیٰ افسران کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.