ملالہ فنڈ کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں، آمدن سے زائد اخراجات اور اعلیٰ عہدیداروں کی بھاری تنخواہوں سے متعلق بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جمع کیے جانے والے عطیات کے استعمال اور ادارے کے اخراجات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی سے عتیق احمد سدوزئی کے مطابق نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے عالمی فلاحی ادارے ’ملالہ فنڈ‘ کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں، خطیر رقوم کے اخراجات اور افسران کی تنخواہوں کے حوالے سے ایک تنازع سامنے آیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جمع کیے جانے والے کروڑوں ڈالر کے عطیات کے مبینہ استعمال نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن سے انکوائریز، تفتیش کا میکنزم طلب کر لیا
معروف امریکی بلاگر اور انفلوئنسر نینسی سڈلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ملالہ فنڈ کے مالی معاملات سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ادارے کے بجٹ، افسران کی مراعات، سفری اخراجات اور تعلیمی منصوبوں کے نتائج پر اعتراضات کیے۔ بلاگر کے دعوے کے مطابق، ملالہ فنڈ نے مالی سال 2024-2025 کے دوران 16.48 ملین ڈالر کی آمدن کے مقابلے میں 23.34 ملین ڈالر خرچ کیے، یعنی آمدن سے 6.86 ملین ڈالر زیادہ رقم خرچ کی گئی۔
رپورٹ میں امریکی انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے ٹیکس دستاویزات، فارم 990، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مارچ 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ادارے کی آمدن 15.33 ملین ڈالر جبکہ اخراجات 22.95 ملین ڈالر تھے۔ اس حساب سے آمدن اور اخراجات کے درمیان 7.62 ملین ڈالر کا فرق سامنے آتا ہے۔
رپورٹ میں ملالہ فنڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ بلاگر کے مطابق ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو سالانہ 372,000 ڈالر، چیف ایڈوائزر کو 320,000 ڈالر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کو تقریباً 241,000 ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں۔ ٹیکس رپورٹس کے حوالے سے لینا الفی کو 333,103 ڈالر، ایرن ہوہلفیلڈر کو 295,603 ڈالر اور ہمیرا وکیلی کو 223,887 ڈالر معاوضے کی مد میں ادا کیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جمع ہونے والی رقم میں سے کتنا حصہ انتظامی اخراجات اور عہدیداروں کے معاوضوں پر صرف ہوتا ہے۔
رپورٹ میں ادارے کے سفری اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران سفر پر 594,000 ڈالر خرچ کیے گئے۔ اس حوالے سے فرسٹ کلاس سفر اور نجی طیاروں کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان اخراجات کی تفصیلات اور ان کے استعمال سے متعلق دعوے رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔
نینسی سڈلی نے ملالہ یوسفزئی کی لندن کے مہنگے ہوٹل ’کلیریجز‘ میں کھانے کی تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ تبصرہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب سمجھ آتا ہے کہ ملالہ اتنی پُرسکون کیوں ہیں، کیونکہ ان کی زندگی کسی ہالی ووڈ راک اسٹار سے کم نہیں۔
دوسری جانب ملالہ فنڈ کا مؤقف ہے کہ ادارہ پالیسی سازی اور 26 ملین سے زائد طلبہ تک رسائی کے لیے کام کر رہا ہے اور رقم گرانٹس کی صورت میں تقسیم کی جاتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں آمدن سے زائد اخراجات، بھاری تنخواہوں اور سفری اخراجات کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات نے ادارے کے مالی معاملات پر بحث کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ فلاحی مقاصد کے لیے جمع ہونے والے عطیات کس طرح خرچ کیے جا رہے ہیں اور ادارے کے اخراجات تعلیمی منصوبوں کے نتائج سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔
https://x.com/nancytsidley/status/2109334117271904394?s=20



