Gas Leakage Web ad 1

جگر کے عام ترین مرض کے پھیلاؤ ایک بڑی ممکنہ وجہ دریافت

0

جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے، جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کی بیماریوں کی عام ترین اقسام میں سے ایک ہے۔
علی امین خان گنڈاپور گھر میں نظربند، باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات
اس بیماری میں جگر بڑی مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو جگر کے افعال متاثر ہو سکتے ہیں۔

جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے جیسے میٹابولک امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اب اس بیماری کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ سامنے آئی ہے۔ درحقیقت پلاسٹک کی سب سے عام قسم پولی تھین سے خارج ہونے والے انتہائی چھوٹے ذرات ممکنہ طور پر جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پولی تھین دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی اقسام میں شامل ہے۔

تحقیق کے مطابق پولی تھین سے خارج ہونے والے ننھے ذرات جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو غیر صحت بخش غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں پولی تھین کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 25 فیصد افراد جگر پر چربی چڑھنے کے مرض سے متاثر ہیں اور یہ دنیا کے عام طبی مسائل میں سے ایک ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پولی تھین کے ذرات جگر میں چربی کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ اگر کوئی فرد چکنائی، مٹھاس اور کولیسٹرول سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بھی کرتا ہو تو اس کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور غیر صحت بخش غذائی عادات ایک دوسرے کے منفی اثرات میں اضافہ کرتی ہیں، جس سے جگر کو پہنچنے والا نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق تحقیق کے نتائج غیر متوقع ہیں، کیونکہ روایتی طور پر پولی تھین کو حیاتیاتی نظاموں کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

محققین نے مزید بتایا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولی تھین جگر کے افعال پر توقعات سے زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔

واضح رہے کہ صحت مند جگر میں چربی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اس میں معمولی اضافے کو بھی بیماری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.