ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کی ضمانت قرار دے دیا

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کی ضمانت قرار دے دیا۔
ٹرمپ کی خواہش ایک بار پھر پوری نہ ہوسکی، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اچانک وجود میں آنے والا اتحاد نہیں ہے۔ معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے تمام اثرات دفاعی نوعیت کے ہوں گے۔ اس حوالے سے کہ کس طرح معاہدے پر عمل کیا جائے گا اور کون سا دستہ وہاں تعینات ہوگا، اس کا فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ معاہدے کو کس انداز میں استعمال کیا جائے گا، یہ فیصلہ بھی آپریشنل کمانڈرز ہی کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی عناصر اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی کو دشمن یا دوست قرار دینا نہیں، بلکہ سعودی عرب کا دفاع کرنا ہے اور اس کا دفاع کیا جائے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایران امریکا جنگ کے خاتمے اور معاہدے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اختلافات کم ہوں، مذاکرات کے ذریعے تنازع کا پُرامن حل نکلے اور کشیدگی مزید نہ پھیلے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان نے غیرجانبداری کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مفاد علاقائی امن اور استحکام میں ہے اور جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔



