Gas Leakage Web ad 1

حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہرحال میں یقینی بنایا جانا چاہیے، پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ کیساتھ کھڑا ہے: دفترخارجہ

0

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے اور پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے اور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔
ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 7 نکات پر بات چیت جاری ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایران کے 7 نکات پر اپنا مؤقف شیئر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے موجود ہے۔ زیر بحث بعض نکات اس یادداشت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے تنازع کے حل میں پاکستان اور دیگر اہم ممالک کا کردار بھی موجود ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست تعاون اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل چاہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات پیش کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے وفد نے ماسکو فارمیٹ کے گزشتہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق مؤقف برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔ پاکستان کے لیے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی محض الفاظ کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان متنازع جموں و کشمیر کے علاقوں کو بھارتی نقشے میں شامل کرنے کی کوشش مسترد کرتا ہے۔ بھارت کی یک طرفہ نقشہ سازی قانونی طور پر بے حیثیت ہے اور یہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی یک طرفہ اقدام جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کی نقشہ سازی کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حق خودارادیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں 2 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو 3 اکتوبر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔

پاکستان نے بھارت سے واقعے کی فوری، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کرنے، ذمہ داران کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کرنے اور تحقیقات کے نتائج شیئر کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.