پی ٹی آئی کی 76 سالہ اسیر رہنما اور سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے دورانِ قید تکیوں اور صوفہ کُشنز پر ہاتھ سے خوبصورت کشیدہ کاری کی ہے۔

اسیری کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی کی مدد سے ایسی خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔
جماعت اسلامی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی، پیٹرولیم ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ دوبارہ شروع کریں گے: حافظ نعیم
اس کشیدہ کاری میں کہیں ہاتھی، گھوڑے، اُلو اور خوبصورت بلیاں دکھائی دیتی ہیں تو کہیں پرندے پھولوں کا رس چوستے اور تتلیاں پھولوں پر منڈلاتی نظر آتی ہیں۔ پہاڑ، بیل بوٹے، پھول اور گل دستوں سمیت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے اندر چھپی بہار کے تمام رنگ ان تکیوں اور صوفہ کُشنز پر بکھیر دیے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ یہ تخلیق کسی اسٹوڈیو میں نہیں بلکہ پسِ زنداں کی گئی ہے۔ ہر ٹانکا صبر کی علامت اور ہر رنگ امید کی کرن ہے۔ جب محسوس ہو کہ وقت تھم گیا ہے اور ہاتھ، ذہن اور روح بالکل خالی ہوں تو ایسے وقت میں کی گئی تخلیق انسان کا بہترین سہارا بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حالات انسان کے قابو میں نہ رہیں تو تخلیق ہی اسے تسکین پہنچاتی ہے۔ انسان کو غیر متزلزل یقین ہونا چاہیے کہ مشکل ترین حالات میں بھی خوبصورتی نمودار ہو کر رہتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جو جلد منظر عام پر آ جائے گی۔



