Gas Leakage Web ad 1

پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

0

پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

Gas Leakage Web ad 2

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ سمیت تمام پارٹی رہنماؤں نے اب تک لانگ مارچ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں راستے کی رکاوٹوں، بالخصوص موٹروے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایم ایف کے زیادہ تر اہداف پر پیشرفت مکمل، شوگر سیکٹر ڈی ریگولیشن پر سندھ کا اعتراض برقرار
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ابتدائی طور پر صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے تجویز دی کہ فی الحال مارچ ملتوی کردینا چاہیے کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس تجویز سے پارٹی اجلاس میں موجود کئی دیگر ارکان نے بھی اتفاق کیا۔

اجلاس میں بیرون ملک مقیم ایک پارٹی رہنما نے تجویز دی کہ اگر فی الحال مارچ ملتوی کرنا ہے تو کردیا جائے، تاہم نئی تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے۔ اس پر اجلاس میں موجود ایک رہنما نے اعتراض کیا کہ اگر تاریخ نہیں دی جائے گی تو کارکن مشتعل ہوں گے، جس کی دیگر ارکان نے بھی حمایت کی۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 4 اکتوبر کو صوابی کے لیے روانہ ہوا جائے گا اور 5 اکتوبر کو صوابی سے اسلام آباد کے لیے روانگی ہوگی۔ اس تجویز پر تمام ارکان نے اتفاق کیا، تاہم پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو فون کریں۔ تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ خود انہیں فون کرلیں تو زیادہ بہتر ہوگا، جس پر وزیراعلیٰ نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ دونوں رہنماؤں سے خود بات کریں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے، جبکہ پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز کے معاملے کا بھی سامنا ہے جو لانگ مارچ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماضی میں علی امین گنڈاپور پارٹی کے ساتھ مالی طور پر تعاون کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار پارٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر بھی ایک جلسے میں پارٹی کو درپیش مالی مشکلات کا اظہار کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ارکان اسمبلی سے مالی تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مارچ کے حوالے سے پارٹی کے اجلاس جاری تھے اور گزشتہ اجلاسوں میں بھی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی رائے سامنے آچکی تھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.