Gas Leakage Web ad 1

بلڈ شوگر جیسے مسئلے سے بچنے کا آسان ترین طریقہ

0

ایسے افراد جو ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار تو نہیں ہوتے مگر ان کا بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ ہائی بلڈ شوگر کے شکار ایسے افراد کے لیے عموماً پری ڈائبیٹیز کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اگر آپ ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے مرض کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانے کی عادت اپنائیں۔ ایک طبی تحقیق میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے اس آسان طریقے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ، حکومت کا سیاسی راستہ بھی کھلا رکھنے کا فیصلہ
جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانے والے افراد کے بلڈ شوگر کی سطح میں تنہا کھانے والوں کے مقابلے میں کم اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق گھر والوں کے ساتھ زیادہ کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا استعمال کرنے کے باوجود بلڈ شوگر کی سطح میں معمولی اضافہ ہوتا ہے، جبکہ گلوکوز کی سطح تیزی سے معمول پر آجاتی ہے۔

محققین کے مطابق انسانی جسم اپنے پیاروں کی موجودگی میں زیادہ مؤثر انداز میں خود کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی جسم موروثی طور پر سماجی میل جول کا عادی ہے اور اپنے پیاروں کو قریب پانے سے جسمانی توانائی خود کو ریگولیٹ کرنے پر خرچ ہونے لگتی ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے اور ہمارا جسم زیادہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف بلڈ شوگر بلکہ جسمانی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنے کا عمل بھی بہتر ہوتا ہے جبکہ تناؤ میں کمی آتی ہے۔

محققین کے مطابق بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ ہم کیا کھا رہے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم کن لوگوں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ ہمارے رشتے دار جسمانی صحت کو درست رکھنے میں بھی متحرک کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیاروں کے قریب رہنا طبی نگہداشت، غذا یا ورزش کا متبادل نہیں بلکہ یہ ایک اور ذریعہ ہے جس سے خود کو ہائی بلڈ شوگر سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خیال رہے کہ بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھنے سے روکنا جسم کے لیے مفید ہوتا ہے، کیونکہ اس سطح میں اضافے سے ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.