اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران درجنوں ممالک نے بائیکاٹ کردیا۔
نیتن یاہو کے خطاب کے دوران درجنوں ممالک کے مندوبین نے بائیکاٹ کیا، جس کے باعث ہال تقریباً خالی ہوگیا۔
ایشین گیمز ہاکی میں پاکستان کی فتوحات کی ہیٹ ٹرک، چین کو 0-3 سے شکست دی
ایرانی وفد نے معنی خیز انداز میں شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر ڈیسک پر رکھ کر ہال سے واک آؤٹ کیا۔
خطاب کے دوران نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ وہ وقت دور نہیں جب ایرانی عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔
انہوں نے اسٹارلنک ڈیوائس دکھاتے ہوئے ایران میں انٹرنیٹ کی فراہمی پر زور دیا، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں کو شہید کرنے کے لیے استعمال کیے گئے پیجر بھی دکھائے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی حمایت پر ترک صدر کو ظالم حکمران قرار دیا، جبکہ قطر پر بھی تنقید کی اور ظہران ممدانی کو یہود مخالف نیویارک کا میئر قرار دیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب نے اوچھی حرکت کرتے ہوئے ایرانی مندوب کے پاس جاکر اسٹارلنک ڈیوائس دکھائی اور جملے کسے، تاہم ایرانی اہلکار نے اسرائیلی مندوب کو نظرانداز کردیا۔