پشاور: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دے دیا۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے موصول ہونے والے خط میں صوبے کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دیا گیا ہے۔
27 ستمبر کے مارچ کا معاملہ، پی ٹی آئی کے 100 سے زائد سرگرم کارکنان نظر بند
خط کے مطابق دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر و لوئر، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر و لوئر اور چترال اپر و لوئر شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی انتظامی و پولیس افسران کے لیے سکیورٹی رسک الاؤنس منظور کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
خط کے مطابق سکیورٹی رسک الاؤنس بنیادی تنخواہ کا 250 فیصد ہوگا، جو افسر کے تبادلے پر فوری طور پر بند کردیا جائے گا۔ الاؤنس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی، جس پر انکم ٹیکس بھی لاگو ہوگا، جبکہ معطلی، او ایس ڈی، جوائننگ ٹائم اور ٹریننگ کے دوران سکیورٹی رسک الاؤنس نہیں ملے گا۔ سکیورٹی رسک الاؤنس کو پنشن اور گریجویٹی کے لیے بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ ضلع صوابی اور ہزارہ ڈویژن کے افسران کو سکیورٹی رسک الاؤنس نہیں ملے گا۔