پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے خلاف تین معاملات پر الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی۔
پی کے میپ کے انٹرا پارٹی انتخابات، گوشواروں اور پارٹی آئین میں تبدیلی سے متعلق اعتراضات کے مقدمات کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے کی۔
پانی خطے کی لائف لائن ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے، وزیراعظم
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے وکیل نے تفصیلی دلائل کے لیے مہلت دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے آرڈر کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ 26 اگست کو سماعت ہونا تھی جو نہ ہوسکی، جبکہ اب سماعت کی نئی تاریخ 21 ستمبر مقرر ہے۔
ای سی پی حکام نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے 180 دن دینے پر بلوچستان ہائیکورٹ نے حکم امتناع دے رکھا ہے، تاہم باقی دو مقدمات میں کوئی اسٹے نہیں ہے۔ پی کے میپ کو ای سی پی کے اعتراضات پر جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے عدم تعمیل کی صورت میں یکطرفہ فیصلے کا انتباہ بھی دیا گیا۔
الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ آپ متعدد بار وقت لے چکے ہیں لیکن جواب جمع نہیں کروا رہے۔ الیکشن کمیشن نے پی کے میپ کے وکیل کی مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔