کبھی پاکستان میں ہاکی صرف ایک کھیل نہیں، ایک خواب تھا۔ میدان میں سبز شرٹس اترتیں تو گیند کے ساتھ ایک پوری قوم کی دھڑکن دوڑتی تھی۔ اسٹک کی ہر ضرب میں عزم کی صدا ہوتی، ہر پاس میں حکمت اور ہر گول میں قومی وقار کی ایک روشن لکیر کھنچ جاتی۔ دنیا جانتی تھی کہ پاکستان سے ہاکی میں مقابلہ صرف گیارہ کھلاڑیوں سے نہیں، ایک عظیم روایت سے ہے۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ نسلیں بدلیں، کھیل کے انداز بدلے اور پاکستان ہاکی کی وہ گھن گرج رفتہ رفتہ مدھم ہوتی گئی۔ کبھی جس سبز جرسی سے دنیا کی بڑی ٹیمیں محتاط رہتی تھیں، وہی جرسی ایک عرصے تک اپنے ماضی کی تصویریں دیکھتی رہی۔ 1994 میں پاکستان نے آخری مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا۔ اس کے بعد گزرنے والے بتیس برس صرف ایک عدد نہیں، ایک طویل انتظار کی داستان ہیں؛ ایسا انتظار جس میں امید کئی بار زخمی ہوئی، مگر کبھی مکمل طور پر دم نہیں توڑ سکی۔
شاید اسی امید کے کسی ننھے سے چراغ نے ایک بار پھر روشنی دینا شروع کی ہے۔
جنوبی کوریا کے خلاف اسلام آباد میں کھیلی جانے والی چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز پاکستان ہاکی کے اسی نئے سفر کی ایک خوش آئند جھلک ہے۔ پاکستان نے پہلے تین مقابلوں میں مسلسل کامیابی حاصل کرکے سیریز اپنے نام کرلی اور بالآخر چار میچوں کی یہ سیریز 3-1 سے جیت لی۔ جبکہ آخری میچ میں جنوبی کوریا نے 6-2 سے فتح حاصل کی۔
لیکن آخری شکست کو پوری کہانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس سیریز کی اصل اہمیت یہ بھی ہے کہ ورلڈ کپ سے عین پہلے پاکستانی کھلاڑیوں کو ایک مضبوط بین الاقوامی حریف کے خلاف مسلسل مقابلوں کا موقع ملا۔ اپنی خامیوں کو دیکھنے، کمزوریوں کو پرکھنے، حکمتِ عملی آزمانے اور اپنی صلاحیتوں کو آخری بار تراشنے کا اس سے بہتر موقع شاید نہ تھا۔ نوجوان کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل کی ٹیم صرف ناموں سے نہیں، تجربے سے تیار ہوگی۔
پاکستان ہاکی کے انتظامی منظرنامے میں بھی ایک نئی سمت دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر اور وفاقی سیکرٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی کی جانب سے بین الاقوامی سرگرمیوں کی بحالی اور ہاکی کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں اس حوالے سے قابلِ توجہ ہیں۔ جنوبی کوریا کی قومی ٹیم کا پاکستان آنا ایک عرصے بعد یہاں بین الاقوامی ہاکی کی فضا کو دوبارہ زندہ کرنے والا قدم ہے۔
تاہم ایک سیریز منزل نہیں، صرف راستے کی ایک نشانی ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ سرگرمی مستقل نظام میں بدلے، نوجوانوں کی نرسری مضبوط ہو، ملکی مقابلے باقاعدگی سے ہوں، کوچنگ اور فٹنس عالمی معیار تک پہنچیں اور انتظامی فیصلوں میں تسلسل پیدا ہو۔ پاکستان ہاکی کو وقتی جوش نہیں، دیرپا سمت درکار ہے۔
اور اب نگاہیں اس میدان پر ہیں جہاں امید کا اصل امتحان ہونا ہے۔
15 اگست سے بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ 2026 شروع ہو رہا ہے، جو 30 اگست تک جاری رہے گا۔ پاکستان پول ڈی میں انگلینڈ، ویلز اور روایتی حریف بھارت کے ساتھ ہے۔ پہلے انگلینڈ، پھر ویلز اور پھر 19 اگست کو بھارت۔
اور جب 19 اگست کو سبز شرٹس اور نیلی شرٹس آمنے سامنے ہوں گی تو برصغیر کی کئی دہائیوں پرانی یادیں ایک بار پھر میدان میں اتر آئیں گی۔
پاکستان اور بھارت کا مقابلہ محض ایک میچ نہیں ہوتا۔ اس میں اعداد و شمار سے زیادہ جذبات ہوتے ہیں، حکمتِ عملی سے زیادہ تاریخ ہوتی ہے اور ایک گول کے پیچھے کبھی کبھی پورے عہد کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مگر پاکستان کو اس بار جذبات سے آگے بڑھ کر ہاکی کھیلنی ہوگی۔ انگلینڈ اور ویلز کے خلاف بھی وہی نظم، رفتار اور فٹنس دکھانا ہوگی جو کسی عالمی دعوے دار ٹیم کی پہچان ہوتی ہے۔
کیونکہ ماضی جتنا بھی شاندار ہو، میدان میں جگہ ہمیشہ حال کو بنانی پڑتی ہے۔
پاکستان چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ 1971، 1978، 1982 اور 1994 کے وہ سنہری ابواب آج بھی ہماری قومی کھیل کی تاریخ کے روشن ترین صفحات ہیں۔ مگر تاریخ صرف فخر کرنے کے لیے نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی وہ آئینہ بھی ہوتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ جس بلندی پر تم کبھی کھڑے تھے، وہاں دوبارہ پہنچنے کے لیے آج کیا کر رہے ہو؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی نے کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ محدود کامیابیاں اور ایک پاکستانی کھلاڑی کے گمشدہ ہونے کا واقعہ کھیلوں کے انتظام، ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کی نگرانی کے نظام پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایسے پس منظر میں ہاکی کی یہ کامیابی یقیناً خوشی کی خبر ہے، مگر اسے جشن سے زیادہ ایک ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایک معرکہ ختم ہوا ہے، دوسرا دروازے پر کھڑا ہے۔
اب انتظامیہ کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ کوریا کے خلاف فتح کو محض ایک خبر نہ بننے دیا جائے، بلکہ اسے ایک مسلسل سفر کی پہلی منزل بنایا جائے۔ قوم کو ایک دن کی فتح نہیں، ایسا نظام چاہیے جو برسوں تک فتوحات پیدا کرے۔
اور پھر امید کا دامن کیوں چھوڑا جائے؟
15 اگست کو ورلڈ کپ کی پہلی سیٹی بجے گی، 17 اگست کو ویلز سامنے ہوگا، 19 اگست کو بھارت کا چیلنج ہوگا۔ اس کے بعد اگر سبز شرٹس قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہیں، حوصلہ شکست کے لمحوں میں بھی قائم رہا اور محنت نے قسمت کا ہاتھ تھام لیا تو 30 اگست کا دن ایک ایسی صبح بن سکتا ہے جس کا انتظار پاکستان ہاکی نے بتیس برس سے کیا ہے۔
ان شاء اللہ، ہم صرف اچھی کارکردگی کی امید نہیں رکھتے؛ امید یہ بھی ہے کہ پاکستان فائنل تک پہنچے، آخری معرکہ اپنے نام کرے اور 32 برس بعد ہاکی ورلڈ کپ کی ٹرافی دوبارہ سبز ہلالی پرچم کے سائے میں آئے۔
شاید وہ لمحہ پھر آئے جب دنیا کے کسی بڑے میدان میں پاکستان کا نام پکارا جائے اور سبز شرٹس کے سینوں پر لگا نشان صرف ایک ملک کی نمائندگی نہ کر رہا ہو بلکہ ایک پوری تاریخ بول رہی ہو۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
شاید پاکستان ہاکی کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ ماضی کی عظمت پر رک جانا منزل نہیں؛ اس عظمت کو مستقبل کی طاقت بنانا اصل کامیابی ہے۔ کچھ خواب وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، وہ صرف کسی نئی نسل کے ہاتھوں میں اپنی تکمیل کا انتظار کرتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہاکی دوبارہ اسکول کے میدان میں بچے کے ہاتھ کی پہلی اسٹک بنے، کلب اس بچے کے خواب کو تربیت دیں اور قومی جرسی اس خواب کو منزل تک پہنچائے۔
محی الدین احمد وانی کی جانب سے کلبوں اور اسکولوں میں ہاکی کے فروغ کے لیے مربوط نظام کی بنیاد رکھنے کی کوشش اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ نظام کس حد تک تسلسل، عملی قوت اور ادارہ جاتی تعاون کے ساتھ اپنے تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ محض اعلان نہیں بلکہ مستقل عمل بن گیا تو شاید آج اسکول کے میدان میں دوڑتا ہوا ایک ننھا کھلاڑی کل دنیا کے کسی بڑے ہاکی اسٹیڈیم میں پاکستان کی سبز جرسی پہن کر کھڑا ہو۔
پھر شاید اسٹک کی ضرب میں صرف گیند نہ دوڑے، ایک خواب دوڑے، ایک قوم دوڑے، ایک تاریخ دوڑے۔
اور شاید کسی اگست کی شام دنیا پھر دیکھے کہ سبز شرٹس صرف میدان میں واپس نہیں آئیں، وہ اپنی تاریخ واپس لینے آئی ہیں۔
حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر