یوں تو ہر ایک کو شیطان سے ڈر لگتا ہے،
اور مجھ کو اس دور کے انسان سے ڈر لگتا ہے۔
کبھی کبھی اخبار کا ایک جملہ آدمی کے ہاتھ روک دیتا ہے۔ چند لفظ ہوتے ہیں، چند سطریں ہوتی ہیں، مگر ان سطروں کے پیچھے ایک پورا گھر ماتم کر رہا ہوتا ہے۔ ایک ماں کی چیخ ہوتی ہے، ایک باپ کی خاموشی ہوتی ہے، ایک گھر کا اجڑا ہوا سکون ہوتا ہے اور ایک ننھی سی جان ہوتی ہے، جس کی دنیا ابھی ماں کی گود، باپ کی انگلی، چند کھلونوں اور بے فکری کی ہنسی تک محدود ہوتی ہے۔
پھر اچانک کوئی انسان اس معصوم دنیا میں داخل ہوتا ہے، اور سب کچھ توڑ دیتا ہے۔
کبھی وہ بچی اٹھارہ ماہ کی ہوتی ہے، کبھی دو برس کی، کبھی تین یا پانچ سال کی۔ وہ ابھی زندگی کے معنی بھی نہیں جانتی، مگر زندگی اس پر اپنا سب سے بھیانک چہرہ ظاہر کر دیتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ وہ کیا جانتی تھی؟
سوال یہ ہے کہ ہم کیا بن چکے ہیں؟
ساحل کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 81 اخبارات میں بچوں سے متعلق 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ تھے۔ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو خبر بن سکے، جو اخبار تک پہنچ سکے، جو کسی نہ کسی طرح خاموشی کی دیوار توڑ سکے۔ خوف، شرمندگی، سماجی دباؤ اور کم رپورٹنگ کے باعث اصل تصویر اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے۔
لیکن کبھی کبھی اعداد و شمار بھی انسان کے دکھ کو بیان کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔
کیونکہ 3,630 کے پیچھے 3,630 کہانیاں ہیں۔
کہیں ایک ماں کی گود اجڑی ہوگی، کہیں ایک باپ کی آنکھوں سے نیند چھینی گئی ہوگی، کہیں ایک بچہ رات کے اندھیرے میں چونک کر اٹھا ہوگا، اور کہیں کوئی ننھی آنکھ شاید پہلی بار یہ سوچنے پر مجبور ہوئی ہوگی کہ:
جس دنیا کو میں محفوظ سمجھتی تھی، وہ اتنی خوفناک کیوں نکلی؟
ہم نے برسوں عورت کے لباس کو موضوع بنایا۔ کہا گیا کہ لباس ایسا تھا، انداز ایسا تھا، فیشن ایسا تھا، عورت مرد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
مگر ذرا اس دلیل کو ایک لمحے کے لیے ایک اٹھارہ ماہ کی بچی کے سامنے لا کر کھڑا کیجیے۔
اس نے کون سا فیشن کیا تھا؟
دو سال کی بچی نے کس ادا سے کسی کو لبھایا تھا؟
تین سال کی بچی نے کس نگاہ سے کسی کو اپنی طرف مائل کیا تھا؟
پانچ سال کی بچی نے کس انداز سے کسی کو دعوت دی تھی؟
جواب ہمارے پاس نہیں۔
مسئلہ عورت کے لباس میں نہیں، انسان کے کردار میں ہے۔
اسی لیے قرآن نے مرد کو پہلے مخاطب کیا:
"مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔”
(النور: 30)
اور فرمایا:
"زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔”
(الإسراء: 32)
اسلام نے حیا سکھائی، رحم سکھایا، پاکیزگی سکھائی، رشتوں کی حرمت سکھائی۔
پھر سوال یہ نہیں کہ اسلام کہاں ہے؟
سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے کہاں دور ہوگئے؟
سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ آج خطرہ ہمیشہ اجنبی نہیں ہوتا۔ کبھی وہ گھر کے اندر سے آتا ہے، کبھی رشتہ دار کے روپ میں، کبھی استاد کے لباس میں، کبھی پڑوسی کی صورت میں اور کبھی ایسے شخص کے چہرے کے ساتھ جس پر والدین نے اپنے بچے کی حفاظت کا پورا اعتماد کیا ہوتا ہے۔
ماں، باپ، نانا، دادا، ماموں، چچا اور استاد—یہ صرف رشتوں کے نام نہیں تھے۔
یہ تحفظ کی علامتیں تھے۔
بچے کے لیے دنیا چھوٹی تھی، مگر ان رشتوں کے اندر محفوظ تھی۔
اگر انہی رشتوں کے اندر خوف جنم لے لے تو صرف ایک بچہ زخمی نہیں ہوتا۔
پورا معاشرہ زخمی ہوجاتا ہے۔
ہم کبھی موبائل کو الزام دیتے ہیں، کبھی سوشل میڈیا کو، کبھی فحش مواد کو، کبھی مغرب کو۔ یہ عوامل مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں، مگر ہر جرم کی ایک ہی وجہ تلاش کرنا حقیقت سے فرار ہے۔ اصل بحران کردار کا ہے، تربیت کا ہے، نگرانی کا ہے، خاموشی کا ہے اور اس نظام کا ہے جو بعض اوقات مجرم کو اتنا بے خوف کردیتا ہے کہ اسے یقین ہوجاتا ہے:
کچھ نہیں ہوگا۔
اور شاید ہمارے معاشرے کا سب سے خطرناک جملہ یہی ہے:
بات باہر نہ نکلے، خاندان کی عزت خراب ہوجائے گی۔
نہیں۔
خاموشی عزت نہیں۔
خاموشی کبھی کبھی مجرم کی سب سے بڑی محافظ بن جاتی ہے۔
خاندان کی عزت مجرم کو چھپانے میں نہیں، بچے کو بچانے میں ہے۔
اب ہمیں صرف تعلیم یافتہ معاشرہ نہیں، تربیت یافتہ معاشرہ بنانا ہوگا۔
اپنے بچوں کو صرف کتابیں نہیں، زندگی کا شعور دینا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ ان کے جسم کی حدود ہیں۔ انہیں "نہیں” کہنے کا حق ہے۔ کوئی انہیں غلط طریقے سے چھوئے، ڈرائے یا خاموش رہنے پر مجبور کرے تو وہ خاموش رہنے کے پابند نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر والدین کو یہ یقین دینا ہوگا:
تم جو بھی کہو گے، ہم پہلے تمہاری بات سنیں گے۔
نہ ڈانٹیں گے۔
نہ شرمندہ کریں گے۔
نہ خاندان کی نام نہاد عزت کے نیچے تمہاری آواز دفن کریں گے۔
کیونکہ دنیا میں شاید ماں باپ سے زیادہ خوبصورت اور محفوظ رشتہ کوئی نہیں۔
مدرسہ ہو یا اسکول، یونیورسٹی ہو یا کھیل کا میدان، ہر جگہ بچوں کے تحفظ کا واضح نظام ہونا چاہیے۔ استاد، مذہبی شخصیت، رشتہ دار یا عہدے دار صرف اپنے منصب کی وجہ سے احتساب سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔
اور شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے آپ سے وہ سوال پوچھیں جس سے نظریں چرانا آسان نہیں:
اگر ہمارے گھروں میں رشتے محفوظ نہیں،
اگر ہماری گلیوں میں بچے محفوظ نہیں،
اگر ہماری درس گاہوں میں اعتماد محفوظ نہیں،
تو پھر آخر محفوظ کیا ہے؟
ایسے میں کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اس شہر کے شور سے، اس خوف سے، اس منافقت سے، اس بے حسی سے بہت دور نکل جائیں۔
کسی جنگل میں۔
جہاں کم از کم خطرہ سامنے تو ہوگا۔
اور دل سے آواز آتی ہے:
چلو جنگل کو ٹھکانہ کر لیں،
مجھ کو انسان سے ڈر لگتا ہے۔
لیکن نہیں۔
جنگل میں بھاگ جانا حل نہیں۔
ہمیں اسی بستی میں رہنا ہے۔
اسی معاشرے میں۔
اسی انسان کے درمیان۔
اور اسی انسان کو دوبارہ انسان بنانا ہے۔
کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کی حفاظت نہ کی، اگر ہم نے تربیت کو تعلیم پر ترجیح نہ دی، اگر ہم نے رشتوں کی حرمت، قانون کی گرفت اور ضمیر کی آواز کو دوبارہ زندہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہم سے صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ مجرم کون تھا۔
وہ ہم سے پوچھیں گی:
جب ہماری معصومیت لٹ رہی تھی، تم کہاں تھے؟
اور شاید اس سوال کا سب سے خوفناک جواب یہ ہوگا:
ہم وہیں تھے۔
ہم نے خبر پڑھی تھی۔
ہم نے افسوس کیا تھا۔
ہم نے غصہ بھی کیا تھا۔
کسی نے دو آنسو بھی بہائے تھے۔
کسی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بھی لکھی تھی۔
پھر موبائل کی اسکرین بند ہوئی…
اور ہم سو گئے۔
مگر شاید اسی رات کسی معصوم بچے کی نیند ہمیشہ کے لیے چھین لی گئی تھی۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں معاشرہ صرف دو راستوں میں سے ایک راستہ چنتا ہے:
یا تو وہ اپنی بے حسی کے ساتھ زندہ رہتا ہے—
یا اپنے ضمیر کو جگا کر انسان بننے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم اپنے بچوں کے لیے صرف خوف کی خبریں چھوڑیں گے،
یا ایک ایسی دنیا بھی چھوڑ جائیں گے
جہاں بچپن دوبارہ بے خوف ہو سکے؟